صفحه اصلی » "آڈیو"
زیادہ مقبول عناوین

امام حسین (علیہ السلام) کا مدینہ کے حاکم سے خطاب؛

ماہ رجب سنہ 60 ہجری کے درمیان معاویہ ابن ابی سفیان 80 سالہ عمر میں ہلاک ہوا اور یزید پلید اس کی جگہ پر (پہلے سے بنائی گئی سازش کے عین مطابق) حاکم بن بیٹھا اور پھر بلا فاصلہ واليِ مدینہ ولید بن عُتبہ بن ابی سفیان کو ایک خط لکھا کہ کسی تأخیر کے بغیر حسین (علیہ السلام) سے بیعت لے لو اور اگر وہ بیعت نہ کریں تو سرتن سے جدا کرکے بھیج دو۔
ولید کو جیسے ہی یزید کا خط ملا، اُس نے مروان کے ساتھ مشورہ کیا۔

مروان نے کہا امام حسین (علیہ السلام) بیعت نہیں کریں گے، اگر میں تمہاری جگہ پر ہوتا تو انھیں قتل کردیتا۔ ولید کہنے لگا اے کاش دنیا میں میرا نام و نشان نہ ہوتا پھر امام حسین علیہ السلام کی طرف پیغام بھیجا کہ دارالامارہ میں آئیں۔
حضرت امام حسین علیہ السلام 30 ہاشمی مسلح جوانوں کے ساتھ دارالامارہ کی طرف چل دیے اور ان جوانوں سے فرمایا: ‘‘آپ لوگ دارالامارہ سے باہر ٹہرایں، اگر میری آواز بلند ہوئی تو دارالامارہ کے اندر آجانا’
جب امام حسین علیہ السلام دارالامارہ میں داخل ہوئے تو والی مدینہ نے ہلاکت معاویہ کی خبرسنائی، امام عالیمقام علیہ السلام نے جملۂ استرجاع (انّا للہ۔۔۔۔) زبان پر جاری فرمایا۔ ولید نے یزید کا خط پڑھ کر سنایا، امام حسین علیہ السلام نے فرمایا ‘‘مجھے نہیں لگتا کہ تم مخفی بیعت پر قناعت کرو’’
ولید نے کہا: جی ہاں؛ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ صبح تک فکر کرو، ولید نے کہا: آپ تشریف لے جائیں۔ مروان نے ولید سے اشارہ سے کہا: اگر وہ چلے گئے تو پھر کبھی بھی ہاتھ نہ آئیں گے جب تک بہت زیادہ خونریزی نہ ہو، ابھی ابھی اُنہیں قیدی کرلو تاکہ یا تو بیعت کرلیں اور یا قتل کردو۔ (مقتل خوازمی، ج1،ص 183)
اس موقع پر شور اُٹھا، مروان نے تلوار کھینچ لی اور والی سے کہا: حکم دو کہ انہیں قتل کردیں اس اثناء میں دارالامارہ کے دروازے کے پیچھے موجود 30 ہاشمی جوان ایک دم ننگے خنجر لیے دارالامارہ کے اندر آپہنچے اور امام حسین علیہ السلام کی ہمراہی میں باہر چلے گئے۔

آڈیو
تازہ ترین شائع کیے جانے والے مضامین