صفحه اصلی » خبریں » سیاسی » 69 سال پاکستان کو مکمل ہوگئے لیکن افسوس آج تک پاکستان کو اس کے اساسی نکات کی جانب لوٹایا نہیں جاسکا؛ قائد ملت جعفریہ پاکستان

69 سال پاکستان کو مکمل ہوگئے لیکن افسوس آج تک پاکستان کو اس کے اساسی نکات کی جانب لوٹایا نہیں جاسکا؛ قائد ملت جعفریہ پاکستان

شائع کیا گیا 15 آگوست 2016میں | کیٹیگری : سیاسی
فونٹ سائز

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ملک میں پائیدار امن کے قیام کیلئے اہم امور پر طویل مشاورت کی گئی ہے اور اس کے بعد یہ بیان کہ “نیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت نہ ہونے سے ضرب عضب متاثر ہوا، خامیوں کو دور کرکے مکمل عملدرآمد کیا جائے،” کی بھرپور تائید کرتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی و انتہاء پسندی کے خاتمے کیلئے ایکشن پلان ضروری ہے لیکن اس کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس پلان کو ناکام بنانے کیلئے اس کا رخ شہری آزادیوں، بنیادی حقوق سلب کرنے اور صدیوں سے جاری تبلیغی مجالس کی جانب موڑ دیاگیا حالانکہ یہ خالصتاً شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے، پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں خالص تبلیغی مجالس پر ایف آئی آرز درج کی گئیں جن کا خاتمہ کیا جائے، ہم حق بجانب ہیں کہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے پرامن اقدامات کریں لیکن اس سے مشکلات بھی پیدا ہونگی جس کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوگی۔
دوسری جانب ملتان میں مختلف وفود سے گفتگو اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ سانحہ کوئٹہ انتہائی المناک سانحہ ہے لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے پورا سچ سامنے لایا جانا چاہیے۔

میں مدت سے ببانگ دہل یہ کہتا چلا آرہاہوں کہ حقائق سامنے لائے جائیں اور اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی خادم اعلیٰ کہتے ہیں کہ سچ نہ اگلوایا جائے کبھی وزیر داخلہ آدھی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں سب کچھ آشکار کرنے پر مجبور نہ کیا جائے، اس کا مطلب کھلے بندوں سچ چھپانا ہے، جب ایسی باتیں ذمہ داران کی جانب سے سامنے آئیں گی تو پھر جو لوگ کچھ معاملات پر توجیہ باہمی ملی بھگت سے تعبیر کرتے ہیں اس کو درست سمجھا جائے گا۔
یوم آزادی پاکستان کے حوالے سے قوم کے نام تہنیتی پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 69 سال پاکستان کو مکمل ہوگئے لیکن افسوس آج تک پاکستان کو اس کے اساسی نکات کی جانب لوٹایا نہیں جاسکا، جمہوریت، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی خواب ہی رہی، ہمیں ایک اجڑا ہوا تباہ حال پاکستان ورثے میں ملا، ہزاروں لوگ مارے گئے لیکن آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے قاتل کون تھے، ریاست کو تباہی کے دہانے پر کس نے پہنچایا، اس کا ذمہ دار کون تھا۔

ہمیں آج کے دن اس عزم کا اعادہ کرنا چاہیے کہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی روشنی میں اقدامات اٹھائے جائیں گے، جمہوریت کی مکمل بحالی، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، میرٹ کا اطلاق اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا، ہمیں مل کر ملکی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا اور آگے آنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ 3 = یازده