صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » 25 محرم الحرام؛ امام زین العابدین (علیہ السلام) کا یوم شہادت

25 محرم الحرام؛ امام زین العابدین (علیہ السلام) کا یوم شہادت

شائع کیا گیا 25 اکتبر 2016میں | کیٹیگری : آج کا تبصرہ
فونٹ سائز

آپ کی شہادت اموی حاکم ولید بن عبد الملک کے زہر دینے سے ہوئی۔ [1]۔

آپ کی شہادت کا سال 95 ہجری قمری [2] بعض نے 94 ہجری قمری [3] 92ہجری قمری [4] 93ہجری قمری [5] اور شہادت کی مشہور تاریخ 18 [6] محرم [7] بروز ہفتہ [8] لکھی گئی ہے بعض نے 14ربیع الاول [9] بدھ [10] بھی ذکر کی ہے۔

شہادت کے وقت عمر مبارک مشہور 57 سال ہے [11] اور 59 سال [12] چار مہینے اور کچھ دن [13] بھی مذکور ہے۔

آپ نے امام علی (علیہ السلام)، امام حسن مجتبی (علیہ السلام) اور امام حسین (علیہ السلام) کی حیات اور ادوار امامت کا ادراک کیا ہے اور معاویہ کی طرف سے عراق اور دوسرے علاقوں کے شیعیان آل رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو تنگ کرنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کی سازشوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔

اہل سنت کی تاریخی روایات کے راوی محمد بن عمر الواقدی، نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت کی ہے: “علی بن الحسین (زین العابدین(ع) نے 58 سال کی عمر میں وفات پائی” اور اس کے بعد رقمطراز ہے: “اس لحاظ سے امام سجاد (علیہ السلام) 23 یا 24 سال کی عمر میں کربلا کے مقام پر اپنے والد امام حسین (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھے۔ [14]

نیز زہری نے بھی کہا ہے کہ علی بن الحسین (علیہ السلام) 23 سال کے سن کے ساتھ کربلا میں اپنے والد کے ہمراہ تھے۔ [15]

امام سجاد (علیہ السلام) سنہ 94 (یا 95) ہجری میں اس زہر کے ذریعے جام شہادت نوش کرگئے جو ولید بن عبدالملک کے حکم پر انہيں کھلایا گیا تھا۔[16] آپ(ع) کو جنت البقیع میں چچا امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کے پہلو میں دفن کردیئے گئے۔ [17]

جس طرح آپ کی جائے پیدائش مدینہ کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا اسی طرح مقام دفن مدینہ ہونے کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے۔

حوالہ جات:

1. علی بن یوسف حلی، العدد القویہ 316/ محمد بن جریر طبری، دلائل الامامہ،ص 192/ ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔

2. ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔کلینی،الکافی1/466۔محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔کلینی،الکافی1/466۔شیخ مفید ،الارشاد2/137۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400۔أحمد بن محمد كلاباذي،الہدايہ والإرشاد في معرفۃ أہل الثقہ والسداد2/527۔اربلی،کشف الغمہ، 2/294۔
3. اربلی،کشف الغمہ، 2/294۔قاضی نعمان،شرح الاخبار3/275۔علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔ذہبی، سیر اعلام النبلاء:4/399و400۔ابن خشاب بغدادی،تاریخ موالید الائمہ،23۔أحمد بن محمد كلاباذي،الہدايہ والإرشاد في معرفۃ أہل الثقہ والسداد2/527۔

4. محمد بن حبان بُستي، مشاهير علماء الأمصار و أعلام فقهاء الأقطار104۔ ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400۔أحمد بن محمد كلاباذي،الہدايہ و الإرشاد في معرفۃ أہل الثقہ والسداد2/527۔

5. ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400

6. محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔اربلی،کشف الغمہ، 2/294۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔

7. علی بن یوسف حلی، العدد القویہ 316۔شیخ طبرسی، اعلام الوری، 1/480۔اربلی،کشف الغمہ، 2/294۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔

8. شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔

9. ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400

10. ذہبی، سیر اعلام النبلاء4/400

11. ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔محمد طبری،دلائل الامامہ 191۔کلینی،الکافی1/466۔شیخ مفید، الارشاد2/137۔شیخ طبرسی،اعلام الوری 1/480۔علی بن یوسف حلی، العدد القویہ316۔

12. ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب 3/311۔ علی بن یوسف حلی، العدد القویہ، 316۔

13. علی بن یوسف حلی ،العدد القویہ316۔

14. ابن‌سعد، طبقات الکبری، ج 5، ص 222؛ ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 17، ص 256؛ اربلی، کشف الغمہ، ج 2، ص 191.

15. ابن منظور، مختصر تاریخ دمشق، ج 17، ص231.

16. شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ص 143، مسعودی نے لکھا ہے کہ امام (علیہ السلام) سنہ 95 ہجری میں رحلت کرگئے ہیں؛ دیکھئے: مسعودی، مروج الذہب، ج 3، ص160

17. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 386 و 391؛ مزی، تہذیب الکمال، ج 13، ص 238؛ س‍ی‍وطی، الطبقات الحفّاظ، ص 37؛ ابن خ‍ل‍ک‍ان، ‌وفیات الاعیان، ج 3، ص 269؛ مسعودی، مروج الذہب، ج 3، ص 169؛ اب‍ن‌ ک‍ث‍ی‍ر، البدایۃ والنّہایۃ، ج9، ص119.

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ 1 = پنج