صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » 25 ذی القعدہ کو دحو الارض کیوں کہا جاتا ہے؟ اس دن کے اعمال و فضائل کیا ہیں؟

25 ذی القعدہ کو دحو الارض کیوں کہا جاتا ہے؟ اس دن کے اعمال و فضائل کیا ہیں؟

شائع کیا گیا 28 آگوست 2016میں | کیٹیگری : آج کا تبصرہ
فونٹ سائز

“دحو” پھیلانے اور وسعت دینے کے معنی میں ہے۔
مجمع البحرین میں آیا ہے: خداوند عالم نے فرمایا: “وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا” (نازعات، 30)
دحو الارض یعنی زمین کا فرش بچھانا۔ دحوالارض کے دن زمین کا فرش کعبہ کے نیچے سے بچھانا شروع کیا۔ اور اس دن پچیس ذی القعدہ تھی۔
امام رضا علیہ السلام نے جب خراسان کا سفر کیا اس سفر دوران پچیس ذیقعدہ کو آپ مرو میں پہنچے اور آپ نے فرمایا: آج کے دن روزہ رکھو میں نے بھی روزہ رکھا ہے راوی کہتا ہے ہم نے پوچھا: اے فرزند رسول آج کون سا دن ہے؟ فرمایا: وہ دن جس میں اللّہ کی رحمت نازل ہوئی اور زمین کا فرش بچھایا گیا۔
دحو الارض کے معنی زمین کو پہیلانے کے ہیں چونکہ لغت میں دحو کے معنی پھیلانے کے ہیں اور بعض نے اس کے معنی پھینکنے کے کئے ہیں اور چونکہ یہ دونوں معنی الزامی اور ملزوم ہیں۔ لہذا ایک ہی مطلب کی طرف پلٹتے ہیں اس بنا پر دحو الارض کا مطلب یہ ہے کہ ابتدا میں سطح زمین طوفانی بارشوں سے بھری ہوئی تھی اس کے بعد یہ پانی دھیرے دھیرے زمین کے سوراخوں میں چلا گیا اور زمین کی خشکی سامنے آ گئی یہاں تک کہ موجودہ حالت میں آگئی (تفسیر نمونہ ج 26، ص 100)

سورہ نازعات کی تیسویں آیت میں “وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا” زمین کے پھیلانے کی طرف اشارہ ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ زمین کو سب سے پہلے کعبہ کے نیچے سے پھیلانا شروع کیا۔
کتاب الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن کی ج 30ص 90 میں ایک روایت امام علی علیہ السلام سے ذکر ہوئی ہے:

“عن إمام المتقين علي عليه السّلام: «إن شاميا سأله عن مكة المكرمة لم سميت مكة؟ قال: لأن الله مك الأرض من تحتها، أي دحاها». و المك هو الدحرجة كما في القاموس”

ایک شامی مرد نے امام علی (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ کیوں مکہ کو مکہ کہا گیا؟ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اس وجہ سے کہ زمین مکہ کے نیچے سے پھیلنا شروع ہوئی۔ مکہ کے معنی منظم حرکت کرنے کے ہیں۔ دحو الارض کی تفسیر میں بھی یہی آیا ہے کہ زمین مکہ سے دھیرے دھیرے پھیلنا شروع ہوئی اور حرکت کرنے لگی۔
و عنه عليه السّلام أيضا: “فلما خلق الله الأرض دحاها من تحت الكعبة ثم بسطها على الماء”
آپ سے ہی مروی ہے کہ جب خداوند عالم نے زمین کو خلق کیا تو اس کا فرش کعبہ کے نیچے سے پھیلانا شروع کیا پھر اسے پانی پر پھیلا دیا۔

اس دن کے اعمال
یہ دن بہت بابرکت دن ہے اور اس کے کچھ مخصوص اعمال ہیں:
1: روزہ رکھنا۔
2: شب دحوالارض کو بیدار رہنا۔
3: اس دن کی مخصوص دعائیں پڑھنا۔
4: اس دن غسل کرنا اور ظہر کے نزدیک اس طریقے سے نماز پڑھنا۔
ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد پانچ مرتبہ سورہ الشمس پڑھے اور سلام کے بعد کہے: “لا حَوْلَ و لا قوَّهَ اِلّا بِالله العلي العظيم” اور اس دعا کو پڑھے ” يا مُقيلَ الْعَثَراتِ اَقِلْني عَثْرَتي يا مُجيبَ الدَّعَواتِ اَجِبْ دَعْوَتي يا سامِعَ الْاَصْواتِ اِسْمَعْ صَوْتي وَ ارْحَمْني و تَجاوَزْ عَنْ سَيئاتي وَ ما عِنْدي يا ذَالْجَلالِ وَ الْاِکْرام”
5: مفاتیح الجنان میں موجود اس دن کی دعا پڑھنا جو ان کلمات سے شروع ہوتی ہے:

اللَّهُمَّ دَاحِيَ الْكَعْبَةِ وَ فَالِقَ الْحَبَّةِ وَ صَارِفَ اللَّزْبَةِ وَ كَاشِفَ كُلِّ كُرْبَةٍ أَسْأَلُكَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ أَيَّامِكَ الَّتِي أَعْظَمْتَ حَقَّهَا وَ أَقْدَمْتَ سَبْقَهَا وَ جَعَلْتَهَا عِنْدَ الْمُؤْمِنِينَ وَدِيعَةً وَ إِلَيْكَ ذَرِيعَةً وَ بِرَحْمَتِكَ الْوَسِيعَةِ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ الْمُنْتَجَبِ فِي الْمِيثَاقِ الْقَرِيبِ يَوْمَ التَّلاقِ فَاتِقِ كُلِّ رَتْقٍ وَ دَاعٍ إِلَى كُلِّ حَقٍّ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ الْأَطْهَارِ الْهُدَاةِ الْمَنَارِ دَعَائِمِ الْجَبَّارِ وَ وُلاةِ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ وَ أَعْطِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا مِنْ عَطَائِكَ الْمَخْزُونِ غَيْرَ مَقْطُوعٍ وَ لا مَمْنُوعٍ [مَمْنُونٍ ] تَجْمَعُ لَنَا بِهِ التَّوْبَةَ وَ حُسْنَ الْأَوْبَةِ ،يَا خَيْرَ مَدْعُوٍّ وَ أَكْرَمَ مَرْجُوٍّ يَا كَفِيُّ يَا وَفِيُّ يَا مَنْ لُطْفُهُ خَفِيٌّ الْطُفْ لِي بِلُطْفِكَ وَ أَسْعِدْنِي بِعَفْوِكَ وَ أَيِّدْنِي بِنَصْرِكَ وَ لا تُنْسِنِي كَرِيمَ ذِكْرِكَ بِوُلاةِ أَمْرِكَ وَ حَفَظَةِ سِرِّكَ وَ احْفَظْنِي مِنْ شَوَائِبِ الدَّهْرِ إِلَى يَوْمِ الْحَشْرِ وَ النَّشْرِ وَ أَشْهِدْنِي أَوْلِيَاءَكَ عِنْدَ خُرُوجِ نَفْسِي وَ حُلُولِ رَمْسِي وَ انْقِطَاعِ عَمَلِي وَ انْقِضَاءِ أَجَلِي اللَّهُمَّ وَ اذْكُرْنِي عَلَى طُولِ الْبِلَى إِذَا حَلَلْتُ بَيْنَ أَطْبَاقِ الثَّرَى وَ نَسِيَنِيَ النَّاسُونَ مِنَ الْوَرَى وَ أَحْلِلْنِي دَارَ الْمُقَامَةِ وَ بَوِّئْنِي مَنْزِلَ الْكَرَامَةِ ،وَ اجْعَلْنِي مِنْ مُرَافِقِي أَوْلِيَائِكَ وَ أَهْلِ اجْتِبَائِكَ وَ اصْطِفَائِكَ وَ بَارِكْ لِي فِي لِقَائِكَ وَ ارْزُقْنِي حُسْنَ الْعَمَلِ قَبْلَ حُلُولِ الْأَجَلِ بَرِيئا مِنَ الزَّلَلِ وَ سُوءِ الْخَطَلِ اللَّهُمَّ وَ أَوْرِدْنِي حَوْضَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ اسْقِنِي مِنْهُ مَشْرَباً رَوِيّاً سَائِغاً هَنِيئاً لا أَظْمَأُ بَعْدَهُ وَ لا أُحَلَّأُ وِرْدَهُ وَ لا عَنْهُ أُذَادُ وَ اجْعَلْهُ لِي خَيْرَ زَادٍ وَ أَوْفَى مِيعَادٍ يَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ اللَّهُمَّ وَ الْعَنْ جَبَابِرَةَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ بِحُقُوقِ [لِحُقُوقِ ] أَوْلِيَائِكَ الْمُسْتَأْثِرِينَ اللَّهُمَّ وَ اقْصِمْ دَعَائِمَهُمْ وَ أَهْلِكْ أَشْيَاعَهُمْ وَ عَامِلَهُمْ وَ عَجِّلْ مَهَالِكَهُمْ وَ اسْلُبْهُمْ مَمَالِكَهُمْ وَ ضَيِّقْ عَلَيْهِمْ مَسَالِكَهُمْ وَ الْعَنْ مُسَاهِمَهُمْ وَ مُشَارِكَهُمْ.اللَّهُمَّ وَ عَجِّلْ فَرَجَ أَوْلِيَائِكَ وَ ارْدُدْ عَلَيْهِمْ مَظَالِمَهُمْ وَ أَظْهِرْ بِالْحَقِّ قَائِمَهُمْ وَ اجْعَلْهُ لِدِينِكَ مُنْتَصِرا وَ بِأَمْرِكَ فِي أَعْدَائِكَ مُؤْتَمِرا اللَّهُمَّ احْفُفْهُ بِمَلائِكَةِ النَّصْرِ وَ بِمَا أَلْقَيْتَ إِلَيْهِ مِنَ الْأَمْرِ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مُنْتَقِماً لَكَ حَتَّى تَرْضَى وَ يَعُودَ دِينُكَ بِهِ وَ عَلَى يَدَيْهِ جَدِيداً غَضّاً وَ يَمْحَضَ الْحَقَّ مَحْضا وَ يَرْفِضَ الْبَاطِلَ رَفْضاً اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَ عَلَى جَمِيعِ آبَائِهِ وَ اجْعَلْنَا مِنْ صَحْبِهِ وَ أُسْرَتِهِ وَ ابْعَثْنَا فِي كَرَّتِهِ حَتَّى نَكُونَ فِي زَمَانِهِ مِنْ أَعْوَانِهِ اللَّهُمَّ أَدْرِكْ بِنَا قِيَامَهُ وَ أَشْهِدْنَا أَيَّامَهُ وَ صَلِّ عَلَيْهِ [عَلَى مُحَمَّدٍ] وَ ارْدُدْ إِلَيْنَا سَلامَهُ وَ السَّلامُ عَلَيْهِ [عَلَيْهِمْ ] وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ.

 

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


3 + = پنج