صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » 14 صفر؛ محمد بن ابی بکر کا یوم شہادت

14 صفر؛ محمد بن ابی بکر کا یوم شہادت

شائع کیا گیا 14 نوامبر 2016میں | کیٹیگری : آج کا تبصرہ
فونٹ سائز

محمد ابن ابی بکر مصر کے گورنر تھے معاویہ نے 6000 فوج کے ساتھ عمرو بن العاص کو محمد سے مقابلہ کے لیے مصر بھیج دیا۔ محمد نے حضرت علی علیہ السلام کو واقعہ کی اطلاع دی۔ آپ نے فوراً جنابِ مالک اشتر کو ان کی کمک میں مصر روانہ کر دیا۔

معاویہ کو جب مالک اشتر کی روانگی کا پتہ چلا تو اس نے مقام عریش یا ملزم کے زمیندار کو خفیہ لکھ بھیجا کہ مالک اشتر مصر جارہے ہیں۔ اگر تم انھیں دعوت و غیرہ کے ذریعہ سے قتل کر دو تو میں تمھارا خراج بیس سال کے لیے معاف کردوں گا۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا۔

جب مالک اشتر پہنچے تو اس نے دعوت دی آپ کے لیے افطار صوم کا انتظام کیا۔ اور دودھ میں زہر ملا کر دے دیا جناب مالک اشتر شہید ہو گئے۔ ادھر عمرو بن العاص نے جناب محمد ابن ابی بکر پر مصر میں حملہ کر دیا۔ آپ نے پورا پورا مقابلہ کیا لیکن نتیجہ پر گرفتار ہو گئے۔

آپ کو معاویہ ابن خدیج نے معاویہ ابن ابی سفیان کے حکم سے گدھے کی کھال میں سی کر زندہ جلا دیا۔ (تاریخ کامل جلد۳، ص۱۴۳، حیوة الحیوان و غیرہ)

اس واقعہ سے امیرالمومنین ؑ کو بے حد رنج پہنچا اور معاویہ کو خوشی ہوئی (طبری ابن خلدون مسعودی)

ان کی پرورش حضرت علی ؑ کی آغوش کرامت میں ہوئی تھی۔ وفات ابوبکر بعد ان کی ماں اسماء بنت عُمَیس سے حضرت نے عقد کر لیا تھا۔ حضرت ان کو بے حد چاہتے تھے۔ انھوں نے مدینہ میں سکونت اختیار کر رکھی تھی۔

یہ جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی ؑ کے ساتھ تھے۔ ۳۷ء میں امیرالمومنین نے انھیں مصر کا گورنر بنا دیا۔ جب جنگ صفین سے امیرالمومنین بارادہ عراق روانہ ہو گئے۔ تو معاویہ نے ایک بڑا لشکر بھیج کر مصر پر حملہ کرادیا۔ کافی جنگ ہوئی بالاخر محمد کو شکست ہوئی۔

محمدبن ابی بکر روپوش ہوگئے۔ لیکن معاویہ نے انھیں تلاش کرکے گرفتار کر لیا۔ پھر انھیں قتل کرکے جلادیا۔

“وکان من العباد الزھاد” وہ بڑے عابد زاہد تھے۔ تاریخ اعثم کوفی کے ص 338 میں ہے کہ انھیں گدھے کی کھال میں سی کر جلوا دیا تھا۔ حضرت محمد بن ابی بکر کی شہادت کے نتیجے میں حضرت عائشہ کو بھی کنویں میں گراکر معاویہ نے ختم کرادیا تھا۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


سه + 8 =