صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » پہلا قدم، انقلاب اسلامی اور دوسرا قدم اسلامی بیداری

پہلا قدم، انقلاب اسلامی اور دوسرا قدم اسلامی بیداری

فونٹ سائز

اسلام روز اول سے روز آخر تک انقلاب ہی انقلاب ہے۔ اس انقلاب کا آغاز سرزمین عرب پر نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر سایہ ہوا، جب گنوار اور جاہل معاشرے کے بدو جو ظلم و جور اور انسانی اقدار کی المناک پستیوں میں گھرے ہوئے تھے، جوک در جوک دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے اور مہذب ترین قوم ٹہھرے۔

دراصل اسی دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کے لئے اللہ عزوجل نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو اپنا نائب اور جانشین بنا کر تمام انسانیت کی رشد و ہدایت و کیلئے متعین کیا تھا۔ بعض نبیوں کو اللہ تعالٰی نے صحیفے اور کتابیں بھی عطا کیں، جن میں ان ادیان کے ماننے والوں نے سرکشی کرتے ہوئے اور اپنے دنیوی فائدے کے لیے تحریف کر دی۔ اسلام وہ واحد دین ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس مذہب کے لانے والے نبی مرسل ص پر نازل کرنے والی الہامی کتاب کے ایک ایک حرف کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے سر لی اور تاقیامت اس الہامی کتاب کی حفاظت کرنے کا وعدہ کیا۔
یہ اسلام کی آفاقی تعلیمات ہی کا نتیجہ ہے کہ عربوں کے دور جاہلیت کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی رسوم و رواج سے لیکر عصر حاضر کی استعماریت کے انسانیت پر ہونے والے مضر اثرات سے نبی اکرم ص سے لے کر اہل بیت اطہار علیہ السلام نے انسانیت کو محفوظ رکھنے کے لیے تاریخ ساز اقدامات کئے اور ہر دور میں اسلام کی ترویج و اشاعت کو نہ صرف یقینی بنایا بلکہ جب بھی دین اسلام پر کوئی آنچ آئی یا جب بھی انسانیت کی بقاء کا مسئلہ درپیش ہوا، ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے نہ صرف خود کلمہ حق بلند کیا بلکہ ضرورت پڑنے پر جہاد بھی کیا اور اپنے پیروکاروں کو بھی یہی تعلیم دی کہ ظالم اور جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا، اس کے خلاف قیام کرنا اور اسے ظلم سے باز رکھنا جہاد ہے۔
اسلام کی ترویج و اشاعت اور ظالم، جابر اور فاسق حکمران کے خلاف قیام کی عظیم المرتبت اور لافانی مثال خود حضرت امام حسین علیہ السلام نے رقم کی۔ حضرت امام حسین ع نے کربلائے معلٰی میں اپنی اور اپنے جاں نثاران کی زندگیوں کو قربان کر کے جہاں دین اسلام کی بقاء پر مہر ثبت کر دی، وہیں ظالم کو للکار کر تمام مسلمانوں کو یہ تعلیم دے دی کہ ظلم کے خلاف اور مظلومین کی حمایت اللہ کے نزدیک بہترین اعمال میں سے ہے۔ آپ نے دین اسلام کی اشاعت و ترویج کے لیے وہ کام سرانجام دیا کہ دین حق کا چہرہ تاریخ میں کہیں بھی اتنا درخشاں نظر نہیں آتا، جتنا کربلائے معلٰی میں پوری آب و تاب سے نظر آتا ہے۔ ہم یہ بات بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسلامی انقلاب جو عرب سرزمین پر محمد مصطفٰی ص کی زیرقیادت رونما ہوا تھا وہ صحیح معنوں میں اپنی پوری چمک دمک کے ساتھ کربلا میں ظہور پذیر ہوا، جس کی روشنی سے تاقیامت آنے والی تمام نسلیں ہدایت اور روشنی پاتی رہیں گی۔
امام عالی مقام تمام عالم اسلام کے لئے ایک عظیم مصلح تھے، جنھوں نے اپنی تحریک کے ذریعہ اپنے دور کی سامراجی طاقتوں کو ایسا ذلیل و رسوا کیا کہ رہتی دنیا تک سامراج اور سامراجیت پوری انسانیت کی نگاہ میں ایک انتہائی کریہہ اور ناقابل معافی گناہ بن کر رہ گئی۔ اگر ہم امام حسین ع کے دور کے حالات کا بغور جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہو گا کہ امام حسین علیہ السلام کو آمر وقت کے مقابلے میں جو سب سے بڑا چیلنج تھا وہ جہالت و گمراہی تھی، اسی لئے آپ نے اپنی عظیم قربانی سے لوگوں میں شعور و آگہی پیدا کی اور آپ کے اسی پیغام کو آپ کی شہادت کے بعد حضرت زینب کبری س نے بہت خوبصورتی سے زبان زد عام کیا۔ جناب زینب سلام اللہ علیہا نے ظالم اور فاسد یزید کے سامنے بھری مجلس میں اس کو دلائل و براہین اور اپنے مدلل خطاب سے ایسا ذلیل و رسوا کیا کہ معلوم تاریخ میں شاید اتنی ذلالت اور حقارت کسی دشمن حق کے حصے میں نہیں آئی ہوگی۔
جب ہم آج کی استعماری طاقتوں کے طریقہ کار کو دیکھتے ہیں خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک جس طرح مظلوم اقوام پر اپنا تسلط باقی رکھنے کے لئے مختلف حیلے بہانے کر کے فرقہ واریت اور مذہبی انتشار پھیلا رہے ہیں، تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ان شیطانی سازشوں کا توڑ امام حسین ع نے کربلا میں اپنے ایک ایک اقدام سے کر کے ہمارے لیے روشن مثال قائم کر دی اور اپنی تعلیمات میں آنے والے ہر شیطان صفت اور انسانیت کے دشمن سے بچنے کے عملی طریقے تعلیم کئے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مغربی استعماری طاقتوں نے اپنے سفلی مفادات کی تکمیل کے لیے عالم اسلام کو جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں دھکیلنے کے لیے اپنی تمام تر مشینری اور ممکنہ وسائل جھونک رکھے ہیں، تاکہ وہ اسلامی تعلیمات جو سرکار دوعالم ص نے پیش کی تھیں اور جن اسلامی شعائر کو امام عالی مقام ع نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے بچایا تھا، سے مسلمانوں کو منحرف کر دیا جائے اور ان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا تسلط قائم کر لیا جائے۔
چنانچہ آج امام عالی مقام کے ہی مشن پر چل کر موجودہ دور کے مصلحین انسانیت کو روشن راستہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی کربلا کی تحریک کو بنیاد بناتے ہوئے ایران کے انقلاب اسلامی کے بانی حضرت آیت اللہ العظمٰی امام خمینی رہ نے ایران کی اڑھائی سو سالہ شہنشاہیت کو چیلنج کر دیا اور ظالم و جابر بادشاہ وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ امام خمینی رہ کی حق گوئی اور امام حسین ع کی طرح ظالم حکمران کے سامنے ڈٹ جانے کی صفت کی وجہ سے انھیں غیر اسلامی دانشوروں نے زمین پر ’’دست خدا‘‘ قرار دیا اور خاک نشینوں کے لیے ’’آسمانی اور ملکوتی تحفہ‘‘ کہا۔ امام خمینی رہ کی عظیم شخصیت کا اعتراف خود امریکیوں نے بھی بارہا کیا ہے۔ امریکی دانشور برملا اس بات کا اظہار کرتے: بلاشبہ وہ اس صدی کی عظیم شخصیات میں سے تھے ان کے جیسی شخصیت کا ملنا مشکل ہے، جو ان کی مانند نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہو اور ان کی شخصیت پوری دنیا کے لیے پر کشش ہو اور سپر طاقتوں کو اس حد تک اپنی طرف متوجہ کر لے۔
یہ امام خمینی رہ کی کرشمہ ساز شخصیت ہی تھی کہ جس نے نہ صرف ایران کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑی، بلکہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کی بھی پیشین گوئیاں کیں، جو ان کی رحلت کے بعد بدرجہ اتم پوری ہوتی چلی گئیں۔ یہ امام خمینی رہ کی ہی پیش گوئی تھی کہ سوویت یونین بہت جلد پارہ پارہ ہو جائے گا اور دنیا نے دیکھا کہ خود کو سپر پاور سمجھنے والا ملک جب ٹوٹنے پر آیا تو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بکھرتا چلا گیا۔ یہ بصیرت، دانائی اور عملی مجاہد ہونے کی صفت امام خمینی رہ کو اہل بیت اطہار علیہم اسلام سے عشق اور ان کی تعلیمات پر آنکھیں بند کر کے کاربند رہنے کی بدولت حاصل ہوئی، خصوصاً امام خمینی رہ نے ظالم کے خلاف قیام کرنے اور حق کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنا نواسۂ رسول حضرت امام حسین ع سے سیکھا اور اسے عملی زندگی میں استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی تاریخی ریاست کی بنیاد رکھی، جو آج ان کی وفات کے بعد بھی امریکہ اور اسکے ہواریوں کو کھٹک رہی ہے۔
امام خمینی رہ کی زندگی ہم تمام مسلمانوں کے لیے سر چشمہ ہدایت ہے کہ محمد و آل محمد ص سے سچا عشق دنیاوی طاقتوں سے ڈر اور خوف کو مفقود کر دیتا ہے۔ یہی وہ حقیقی اور آفاقی تعلق ہے جو آخرت تک انسان کی فلاح کا ضامن ہے۔ اسی عشق حقیقی نے امام خمینی رہ کی شخصیت کو استعمار کے لیے شدید ترین خطرہ بنا دیا تھا اور استعماری طاقتوں نے آپ کے مقابلے کے لیے ہر حربہ سرائی کو استعمال کیا مگر انھیں محمد و آل محمد ص کے اس سچے عاشق کے سامنے ہر میدان میں گھٹنے ٹیکنے پڑے۔
امام خمینی رہ نے جس طرح ایران کے مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا، اسی طرح انھوں نے دیگر مسلم ممالک خصوصاً فلسطین کے مظلومین کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اعلان ’’یوم القدس‘‘ منانے کے اعلان سے کیا۔ انقلاب اسلامی کے بانی آیت اللہ العظمٰی سید امام خمینی رہ کی زندگی میں ہی امریکہ، برطانیہ اور دیگر استعماری طاقتوں نے یوم القدس کے خلاف پراپیگنڈا کا آغاز کر دیا مگر ہر آنے والا سال انکل سام اور اسکے حواریوں کے لیے بھاری پڑتا ہے، جب امام خمینی رہ کی افواج برحق امام حسین ع سے اپنے عشق کا اظہار ظالم ریاست اسرائیل کے خلاف یوم القدس کے موقع پراحتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکال کر کرتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کی جانب سے کی جانے والی سازشوں سے متنبہ کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر اور قائد انقلاب اسلامی نے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب میں فرمایا: شیطان بزرگ امریکہ نے ابتدائے انقلاب سے ہی اپنی تمام فوجی، مالیاتی، تشہیراتی اور سیاسی توانائیوں کے ساتھ اسلامی انقلاب اور ملت ایران کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، لیکن علاقے اور ایران کے سیاسی میدان کے حقائق اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اس وقت امریکہ اسلامی انقلاب کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
ایران کے اسلامی انقلاب نے جہاں ایران کے عوام پر اپنے بیش بہا اثرات مرتب کئے، وہیں دسمبر 2010ء سے بحرین کے عوام کا آل خلیفہ کے صدیوں سے جاری ظلم اور جبر کے خلاف قیام اور ظالموں کی بربریت کے جواب میں’’یاحسین ع ! یا حسین ع !‘‘ کے فلک شگاف نعرے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ بحرینی عوام کی زندگیوں پر بھی اسلامی انقلاب کے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے علاقے کے عوام میں اسلامی بیداری نے جنم لیا ہے اور وہ ظالم حکمران وقت کے خلاف استقامت کی دیوار بنے کھڑے ہیں۔ وہ اسلامی بیداری جس کی روشنی کربلا سے پھوٹتی ہے ایران کو تو امام خمینی رہ کی جدوجہد کی بدولت تین دہائیاں پہلے ہی منور کر چکی تھی، اب مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک پر مہربان نظر آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وقت کے فرعون اور آمریت کے بڑے بڑے علمبردار آج انھی خون کی ندیوں میں غرق ہو چلے ہیں، جن کو بہا کر انھوں نے اپنا اقتدار قائم کر رکھا تھا۔
اس اسلامی بیداری نے ترکی جیسی جدید اور لبرل ریاست پر بھی اپنے اثرات مرتب کیے ہیں اور آج ترکی رجب طیب اردگان کی قیادت میں ایک جدید اور معتدل اسلامی ریاست کی جانب بڑھتا چلا جا رہا ہے جو نہ صرف فلسطینی بھائیوں کا حمایتی ہے اور اسرائیل کو نہتے مسلمانوں پر ظلم سے باز رہنے کی بار بار تائید کر رہا ہے بلکہ مصر ،تیونس، الجزائر، بحرین اردن اور یمن کے مسلمانوں کی اسلامی بیداری پر بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔
اسی اسلامی بیداری کے بارے ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے امام حسین علیہ السلام دفاعی یونیورسٹی میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : مشرق وسطٰی کے انتہائی حساس علاقے میں شیطان بزرگ امریکہ کی پالیسیوں کی شکست اور علاقے کی اٹھ کھڑی ہونے والی قوموں کے اندر اسلامی نعرے نوید بخش ہیں، جو احیائے ملت ایران کے لئے بعض الٰہی وعدوں کے ایفاء کی علامت ہے اور اس راستے پر ثابت قدمی سے نصرت الہی کا وعدہ مکمل طور پر پورا ہوگا۔
مختصراً، اسلام ایک ایسے انقلاب کا نام ہے جس کا آغاز عرب کے صحرا سے ہوتا ہوا کرب و بلا کی خاک پر پوری آب و تاب سے انسانی افق پر طلوع ہوا اور اس کے ثمرات ایران سے ہوتے ہوئے تیونس، مصر، بحرین، اردن، یمن اور لیبیا سمیت دیگر مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کی ریاستوں پر مرتب ہوئے۔ یہ اسی انقلاب اسلامی ہی کی بدولت ہے کہ مغرب کی نئی نسل بھی بہت تیزی سے لادینیت اور رہبانیت کے نظریات سے بد دل ہو کر سکون اور طمانیت حاصل کرنے کے لیے دائرہ اسلام میں داخل ہو رہی ہے، جو کہ یقناً خوش آئند ہے مگر یہ عظیم انقلاب یورپی اور مغربی سامراجیت کو بری طرح سے کھٹک رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعمار مسلمانوں میں انتشار اور بدنظمی پھیلا کر اپنی نوجوان نسل کے اذہان میں اسلام کے خلاف نفرت پیدا کر رہا ہے۔ اب یہ ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی انقلاب کو اپنے اعمال سے پوری دنیا پر آشکار کریں اور کربلا کے اصل مقصد کو تمام ذاتی مفادات اور تعصب سے بالاتر ہو کر زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ پنج = 10