صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » مسجد، قرآن کریم اور معصومین (علیہم السلام) کے کلام کی روشنی میں

مسجد، قرآن کریم اور معصومین (علیہم السلام) کے کلام کی روشنی میں

شائع کیا گیا 22 آگوست 2016میں | کیٹیگری : آج کا تبصرہ
فونٹ سائز

لفظ مسجد قرآن کریم میں مفرد یا جمع کی صورت میں 28 بار ذکر ہوا ہے:
15 بار “الحرام” کے بعد، 5 بار “مسجد” کے عنوان سے، 1 بار “الاقصی” کے بعد، 1بار لفظ “ضرار” کے ساتھ، 6 مقامات میں یہ لفظ، جمع “مساجد” کی صورت میں استعمال ہوا ہے۔
لفظ “البیت” بہت سارے مقامات میں کعبہ یا مسجدالحرام کے معنی میں ہے۔ قرآن میں لفظ مسجد مختلف معانی کا حامل ہے۔
مثلاً قرآن کریم میں کبھی لفظ مساجد، بدن کی ان سات جگہوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو سجدہ کی حالت میں زمین پر رکھی جاتی ہیں۔ “وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَداً”[1]، “اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا”۔
جب سے مسجد کی اسلام میں بنیاد رکھی گئی، تب سے مسجد میں آنے جانے کے لئے کچھ احکام اور آداب، قرآن اور احادیث میں بیان ہوئے۔ مسجد کی طہارت اور صفائی پر تاکید کی گئی ہے، نیز نمازی آدمی اور اس کی چیزیں اور اس کے حالات کے متعلق خاص فقہی احکام قرار دیئے گئے ہیں۔ مثلاً مسجد میں جنابت کی حالت سے داخل ہونا حرام قرار دیا گیا ہے، سفید اور پاکیزہ کپڑے مسجد میں حاضر ہونے کے لئے مستحب ہیں اور مسجد میں آنے کے لئے سیاہ اور میلے کپڑے پہننا مکروہ ہیں۔
اسلامی ثقافت میں قرآن کریم اور روایات میں مسجد کا خاص احترام اور مقام ہے۔ قرآن کریم کی نظر میں مسجد کو قائم کرنا ہر آدمی کا کام نہیں بلکہ اس کے لئے کچھ شرطیں ہیں، ارشاد الہی ہے: “إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ”(2)، “اللہ کی مسجدوں کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جن کا ایمان اللہ اور روز آخرت پر ہے اور جنہوں نے نماز قائم کی ہے زکات ادا کی ہے اور سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرے یہی وہ لوگ ہیں جو عنقریب ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں گے”۔
حضرت امام امیرالمومنین علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “جو انسان مسجد میں آنے جانے کو جاری رکھتا ہے تو اسے آٹھ میں سے ایک فائدہ پہنچے گا: “مَنِ اختَلَفَ إلى المَسجِدِ أصابَ إحدَى الثَّماني: أخا مُستَفادا في اللّه ِ ، أو عِلما مُستَطرَفا ، أو آيَةً مُحكَمَةً ، أو رَحمَةً مُنتَظَرَةً ، أو كَلِمَةً تَرُدُّهُ عن رَدىً ، أو يَسمَعُ كَلِمَةً تَدُلُّهُ على هُدىً ، أو يَترُكُ ذَنبا خَشيَةً أو حَياءً”(3)، “اللہ کی خاطر کسی بھائی کا مل جانا، یا کوئی نیا علم، یا کوئی محکم آیت، یا ایسی رحمت جس کا وہ منتظر تھا، یا ایسی بات جو اسے ہلاکت سے بچالے، یا ایسے جملہ کا سننا جو اسے ہدایت کی طرف راہنمائی کرے، یا کسی گناہ کو خوف یا حیا سے چھوڑ دے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں: “مَن مَشى إلى مَسجِدٍ يَطلُبُ فيهِ الجَماعَةَ كانَ لَهُ بكُلِّ خُطوَةٍ سَبعونَ ألفَ حَسَنةٍ، و يُرفَعُ لَهُ مِن الدَّرَجاتِ مِثلُ ذلكَ، و إن ماتَ و هُو على ذلكَ وكَّلَ اللّه ُ بهِ سَبعينَ ألفَ مَلَكٍ يَعُودُونَهُ في قَبرِهِ، و يُؤنِسُونَهُ في وَحدَتِهِ، و يَستَغفِرُونَ لَهُ حتّى يُبعَثَ”(4)‘، “جو شخص نماز جماعت کے لئے کسی مسجد میں جائے، ہر قدم اٹھانے کے بدلے اس کے لئے ستر ہزار نیکیاں ہیں اور اسی مقدار میں اس کے درجات بلند ہوجائیں گے اور اگر اس حالت میں مرجائے تو اللہ ستر ہزار فرشتوں کو مقرر کرے گا کہ اس کی قبر میں اس کی عیادت کے لئے جائیں اور اس کی تنہائی میں اس سے انس پائیں اور اس کے محشور ہونے تک اس کے لئے استغفار کریں۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب ابوذر غفاری سے فرمایا: “يا أبا ذَرٍّ، إنّ اللّه َ تعالى يُعطِيكَ ما دُمتَ جالِسا في المَسجِدِ بِكُلِّ نَفَسٍ تَنَفَّستَ دَرَجةً في الجَنَّةِ ، و تُصَلِّي علَيكَ الملائكةُ ، و تُكتَبُ لَكَ بِكُلِّ نَفَسٍ تَنَفَّستَ فيهِ عَشرُ حَسَناتٍ ، و تُمحى عنكَ عَشرُ سَيّئاتٍ”(5)، “اے ابوذر! جب تک مسجد میں بیٹھے ہو یقیناً اللہ تعالی تمہارے ہر سانس لینے کے بدلے ایک درجہ تمہیں جنت میں دیتا ہے اور فرشتے تم پر درود بھیجتے ہیں اور مسجد میں تمہارے ہر سانس لینے کے بدلہ تمہارے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور تم سے دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں”۔

نتیجہ:

قرآن و روایات کی روشنی میں مساجد کا خاص مقام ہے۔ اسلام میں کوئی جگہ مسجد کی عظمت اور بلندی کا ہم پلہ نہیں ہے، مسجد ساجد، ذاکر اور عارف لوگوں کا مرکز ہے۔ مسجد اسلامی تعلیمات کی اشاعت کی جگہ اور مومنین اور متقین کی تربیت و پرورش کی جگہ ہے۔ مسجد میں نماز جماعت کی خاص فضیلت ہے، لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ نماز جماعت مسجد میں پڑھیں، جہاں مسجدیں نہیں ہیں وہاں پر مسجدیں تعمیر کریں اور جہاں مسجد ہیں مگر آباد نہیں اور ان میں نماز قائم نہیں ہوتی، ان مساجد کو آباد کریں اور وہاں پر نماز قائم کریں تا کہ ہر روز کئی بار ہر شہر اور ہر گاوں میں کئی طرف سے، اللہ تعالی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل بیت (علیہم السلام) کا نام اور ذکر گونج اٹھے، اور اس طرح سے اسلام زندہ و سربلند رہے اور آواز حق کو بلند کرنے والے رحمت الہی سے اپنے دامن کو بھرلیں۔

[1] سورہ جن، آیت 18
[2]سورہ توبه، آیت 18
[3]امالی شیخ صدوق، 474/637
[4]بحار الأنوار، 1/336/76
[5] بحار الأنوار، 3/85/77

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


3 + = دوازده