صفحه اصلی » عالم اسلام » اسلامی ممالک » لبنان » اسلامی اہم شخصیات » شہید سید عباس موسوی، اسلامی مزاحمت کا حقیقی ثمرہ

شہید سید عباس موسوی، اسلامی مزاحمت کا حقیقی ثمرہ

فونٹ سائز

اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں مقصد اور ہدف کی راہ میں قربانیوں سے بھری تاریخ نظر آتی ہے، جہاں حزب اللہ کے مجاہدین نے نہ صرف دنیا کے مال و متاع میں دل نہیں لگایا، وہاں انہوں نے اپنی سب سے عزیز ترین چیز اپنی زندگیوں اور اپنی اولادوں کو بھی الہٰی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اس راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا، حتٰی اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں صرف اس لئے قربان کر دیا کہ دنیا میں جن لوگوں کو ظالم اور استعماری قوتوں نے مستضعف بنا دیا ہے، انہیں واپس طاقتور کیا جائے، دنیا کے طاغوتی نظاموں کو سرنگوں کیا جائے اور اسلام کا پرچم سربلند ہو کر پوری دنیا پر رہتی دنیا تک لہراتا رہے۔ قربانیوں کی مثالوں میں بہت سی شخصیات اور گمنام افراد شامل ہیں، جن میں قابل ذکر و معروف شیخ راغب حرب شہید ہیں، جو حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے، اسی طرح ایک سیکرٹری جنرل سید عباس موسوی شہید ہیں، حزب اللہ کے ملٹری چیف حاج عماد مغنیہ شہید ہیں، اسی طرح حزب اللہ کے قائدین اور فوجی کمانڈروں میں شہید حسن القیس بھی ان افراد میں شمار ہوتے ہیں کہ جن کی قربانیاں بے مثال و بے نظیر ہیں۔ ہم ان قائدین کی شخصیات کو دور حاضر میں ایک ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے بلکہ پوری ملت اسلامیہ ان کے عظیم کارناموں اور اسلام کی سربلندی کے لئے پیش کی جانے والی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔

شہید عباس موسوی کہ جن کا ذکر درج بالا سطور میں کیا گیا ہے، ان کے بڑے فرزند یاسر نے ایک مرتبہ کسی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ نہایت غیر منصفانہ بات ہوگی کہ یہ مجاہدین جو اللہ کی راہ میں سرگرم عمل ہیں، گھروں میں اپنے بستروں پر موت کی آغوش میں چلے جائیں، ان کے لئے دشمنان خدا سے مبارزہ کے دوران شہید ہونا ہی انصاف ہے اور یہ ان کے شایان شان ہے۔” سید عبا س موسوی 1952ء میں ایک اسلامی گھرانے میں پیدا ہوئے کہ جہاں اسلامی دنیا کے مسائل بالخصوص مسئلہ فلسطین کو بنیادی ترجیحات میں شمار کیا جاتا تھا، جب عباس موسوی نے جوانی میں قدم رکھا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جنوبی لبنان کے علاقے طیر میں واقع امام موسٰی الصدر کے مدرسے میں دینی تعلیم یعنی علوم دینیہ میں مہارت حاصل کریں گے۔ یہ شہید عباس موسوی کی سولہ سال کی عمر کا وقت تھا کہ آپ نے عالم دین کا لباس پہن لیا اور اعلٰی دینی تعلیم کے لئے عراق میں موجود آیت اللہ سید محمد باقر الصدر جو کہ ایک عظیم فلسفی، مفکر، عالم دین، سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ عراق کی دعوة پارٹی کے بانی بھی تھے، ان کے پاس تشریف لے گئے، بعدازاں عراق کے سابق صدر صدام حسین نے آیت اللہ سید محمد باقر الصدر کو ظالمانہ انداز میں شہید کر دیا تھا۔ سید عباس موسوی نجف اشرف میں نو سال تک دینی علوم اور تھیولوجی پڑھنے کے بعد 1978ء میں واپس لبنان تشریف لے آئے اور لبنان کے مشرقی علاقے بعلبک میں ایک دینی مدرسہ کا قیام عمل میں لائے۔ یہ 1979ء کی بات ہے کہ جب سید عباس نے پہلی مرتبہ مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ساتھ نشست کا اہتمام کیا اور مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مختلف مکاتب فکر کو متحد کرنے کے لئے سرگرمی کا آغاز کیا۔

سید عباس موسوی ایک عظیم قائد:
1979ء میں سرزمین ایران پر حضرت امام خمینی کی قیادت میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کے بعد شہید عباس موسوی نے 1982ء میں لبنان میں اسلامی مزاحمت کے قیام کا فیصلہ کیا، کیونکہ یہ وہ وقت تھا کہ جب غاصب اسرائیلی افواج لبنانی دارالحکومت بیروت پر مکمل کنٹرول حاصل کرچکی تھیں۔ شہید عباس موسوی نے اسلامی مزاحمت کے قیام کے بعد صرف یہ نہیں کہ بیروت میں مقیم رہے بلکہ آپ اس بات کے لئے سرشار رہتے تھے کہ بیروت میں تو اسرائیلی افواج کے ساتھ جس قدر مقابلہ کیا جا سکتا ہے کیا جائے، لیکن اس کے علاوہ آپ مقبوضہ فلسطین و لبنان کے دیگر علاقوں میں بھی کارروائیاں انجام دینے کے لئے ہمیشہ صف اول میں سرشار رہے۔ مزید برآں سید عباس موسوی مختلف واقعات کے رونما ہونے کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے مضبوط ایمان کی بنیاد پر معاملات کا تجزیہ کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ سید عباس موسوی ہی تھے جو ہمیشہ اسلامی مزاحمت کے مجاہدوں کو کہا کرتے تھے کہ اسلامی مزاحمت اللہ کے لطف و کرم سے جلد ہی کامیاب ہوگی، بس کچھ وقت کی بات ہے اور دشمن کی شکست شروع ہوچکی ہے، آپ کا جملہ معروف ہے کہ جس میں آپ نے اسرائیلی دشمن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اسرائیل نابود ہو رہا ہے۔” پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا نے دیکھ لیا کہ کس کس طرح اور کس کس محاذ پر اسرائیل کو بدترین شکست اور رسوائی کا سامنا ہوا اور شہید عباس کا قول سچ ثابت ہوا کہ ”اسرائیل نابود ہو رہا ہے۔”

شہید عباس موسوی کے فرزند یاسر نے ایک مرتبہ ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہید عباس موسوی نے لبنان میں موجود مختلف مکاتب فکر بشمول اہلسنت و دیگر کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کئے ہیں اور لبنان کے تمام نامور اہلسنت علمائے کرام جن میں شیخ ماہر حمود، شیخ شیخ فتحی یکان، شیخ سعید شعبان اور دیگر شامل ہیں، حتٰی سید عباس موسوی کے ان علماء اور شخصیات کے ساتھ بھی بہت اچھے تعلقات استوار ہوچکے ہیں جو حزب اللہ اور اسلامی مزاحمت سے متفق نہیں ہیں۔ شہید عباس ہمیشہ سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے داعی تھے اور ہمیشہ سے آپ کہا کرتے تھے کہ اسلامی مزاحمت ان سب کے لئے ہے جو کہ ایماندار، سچے اور مخلص ہیں، خواہ وہ کسی بھی مسلک یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ شہید عباس موسوی ایک ایسے عظیم مجاہد قائد تھے جو متعدد مرتبہ مجاہدین کے ساتھ صف اول میں موجود رہ کر دشمنوں کے ساتھ معرکہ آرائی میں مشغول رہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ اسرائیلی فوجیوں کو گرفتار کرنے کی کارروائی میں خود سید عباس موسوی آگے آگے موجود تھے۔ یوں تو سید عباس موسوی شہید کی زندگی اور ان کی مجاہدانہ قیادت کی بہت سی تفصیل بیان کی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شہید عباس موسوی صرف لبنان تک محدود نہ رہے، آپ پاکستان تشریف لائے اور یہاں سے آزاد کشمیر کے لئے تشریف لے گئے، آپ نے پاکستان میں بھی اتحاد و وحدت کے درس کا بھرپور پرچار کیا اور اسی طرح آپ نے افغانستان کا دورہ کیا، جس کا مقصد بھی وہاں پر مسلمانوں کو باہم متحد کرنا اور مسلمانوں کے مشترکہ دشمن کے خلاف جہاد کرنا شامل تھا۔ شہید عباس موسوی نے پاکستان اور افغانستان میں اس بات کو باور کروانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کے دشمنوں سے صرف اسلامی مزاحمت کی زبان میں ہی بات کی جانی چاہئیے جو کہ درست راستہ ہے، انہوں نے بتایا کہ اسلامی مزاحمت حزب اللہ نے لبنان میں دشمن کے خلاف کس طرح قیام کیا اور فتوحات حاصل کیں۔

شہید عباس موسوی ایک مصلح:
شہید عباس موسوی کو 1991ء میں حزب اللہ کی سیکرٹری جنرل شپ کے عہدے پر فائز کیا گیا، اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد سید عباس موسوی نے ملت و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے بھی خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا اور آپ ہمیشہ لبنان کے مضافاتی علاقوں اور گائوں دیہاتوں کا دورہ کرتے اور وہاں پر بسنے والے افراد کی مشکلات کا جائزہ لینے کے بعد ان کو حل کرنے کے لئے اقدامات انجام دیتے، سید عباس موسوی کا شعار تھا کہ ”ہم خدمت کیلئے ہیں۔” شہید عباس موسوی ہمیشہ جمعہ کے روز لوگوں سے عمومی ملاقات کیا کرتے تھے، ان کی مشکلات کو سنتے اور اس کے بعد ان مشکلات کے حل کے لئے کوشاں رہتے۔

شہید عباس موسوی ایک کمانڈر:
شہید عباس موسوی کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا کہ جب ایک مرتبہ شہید عباس موسوی نے اسرائیلی دشمن پر برشیت کے علاقے میں حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا، یہ کارروائی ایک ایسے علاقے میں انجام دی جانی تھی کہ جو لبنان کا علاقہ تھا، تاہم اسرائیلی قبضے میں تھا، ایک مجاہد ماجد غدر سید عباس موسوی کے پاس آیا اور اعتراض کیا کہ میرا نام آپ نے اس عملیات کے انجام دینے والوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا، ماجد غدر نے بہت زور دیا کہ اسے اس عملیات میں شامل کیا جائے، تاہم شہید عباس موسوی نے اس کے بے پناہ اصرار پر ماجد کو عملیات میں شامل کر لیا، جب مجاہدین کا یہ گروہ عملیات کے لئے آگے بڑھنے لگا تو سید عباس موسوی نے فیلڈ کمانڈر کو بلایا اور اسے بتایا کہ اس عملیات میں ماجد غدر شہادت کے درجے پر فائز ہوگا اور یہ عملیات اس کی شہادت کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوگا۔ سید عباس موسوی کے اس قریبی ذرائع نے بتایا کہ شہید عباس نے ماجد غدر کے جوش و خروش اور اس کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ شہید عباس نے ماجد کی شہادت کی پیشگوئی کی جو واقعاً پوری ہوئی۔

سید عباس موسوی ایک شہید:
سید عباس موسوی جنوبی لبنان کے علاقے جب شئت میں ایک تقریب میں خطاب کے لئے تشریف لے گئے، جہاں پر آپ نے خطاب کیا، آپ کے ہمراہ آپ کی اہلیہ اور آپ کا بیٹا حسین بھی تھا، آپ نے اپنی آخری تقریر میں اسلامی مزاحمت کو قائم و دائم رکھنے کے بارے میں گفتگو کی، یہ 16 فروری 1992ء کا دن تھا۔ اس تقریب کے خاتمے کے بعد جب سید عباس موسوی بیروت کے لئے روانے ہونے لگے تو جئب شئت پر گشت کرتے اسرائیلی ڈرون طیارے نے سید عباس کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سید عباس موسوی، آپ کی اہلیہ ام یاسر اور آپ کا چھوٹا بیٹا حسین شہید ہوگئے۔ شہید سید عباس موسوی کی شہادت پر انقلاب اسلامی کے قائد حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ”سید عباس موسوی کی شہادت اسلامی مزاحمت کی راہ میں ایک اہم موڑ اور اسلامی مزاحمت کے ثمرات میں سے ایک ہے۔”

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ نُه = 12