صفحه اصلی » انٹرویوز » سوریہ کے جبل العلویین کے امام جمعہ: امریکا کا انسانی حقوق کا دعوا کرنا، نہایت مزاحیہ بات ہے

سوریہ کے جبل العلویین کے امام جمعہ: امریکا کا انسانی حقوق کا دعوا کرنا، نہایت مزاحیہ بات ہے

شائع کیا گیا 15 ژوئن 2014میں | کیٹیگری : انٹرویوز
فونٹ سائز

سوریہ کے جبل العلویین کے امام جمعہ نے کہا: یہ بات، نہایت مزاحیہ کلام ہے کہ ایک ملک جو  خود ایٹمی بم اور قتل و غارت اور جنگوں کا اصلی رکن رکین ہونے کے باوجود، انسانی حقوق کا دعوی کرتا ہے۔

سوریہ کے جبل العلویین کے امام جمعہ:

امریکا کا انسانی حقوق کا دعوا کرنا، نہایت مزاحیہ بات ہے/ امریکا، کئی دہائیوں  کی جنگ اور قتل و غارت کا  اصلی موجد

سوریہ کے جبل العلویین کے امام جمعہ نے کہا: یہ بات، نہایت مزاحیہ کلام ہے کہ ایک ملک جو  خود ایٹمی بم اور قتل و غارت اور جنگوں کا اصلی رکن رکین ہونے کے باوجود، انسانی حقوق کا دعوی کرتا ہے۔

حجت الاسلام و المسلمین جناب شیخ شوقی الحداد نے جو  امام خمینی  (رہ) کی پچیسویں برسی کے عنوان سے ایران میں تشریف لائے ہوئے ہیں، ابناء روح اللہ کے صحافی سے انٹرویو  کرتے ہوئے، کہا:  امام خمینی  (رہ) کی برسی میں شرکت کرنے  کے ساتھ ساتھ ایران کے لوگوں کو  ان کی مختلف شعبوں میں  ترقی اور پیشرفت  کی مبارک پیش کر سکوں۔

انہوں نے کہا: سوریہ کہ حکومت، امام خمینی رہ کے قیام کے وقت سے لے کر آج تک، ان کے قیام  کی حمایت کرتی  آرہی ہے۔ اور سوریہ کی حکومت  اور عوام، اس مزاحمت کے حمایت کے لئے اور عالمی جارحیت کے خلاف ایرانی  عوام کے  ساتھ ساتھ اور  قدم بقدم پر چلتی آرہی ہے۔

حجت الاسلام الحداد نے ولایت فقیہ کی حکومت، امام خمینی  (رہ) کے قیام کے ثمرات اور نتائج پر واضح دلیل  ہونے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: ہم  امام خمینی رہ کو نہ فقط  شیعوں کے، بلکہ دنیا کے تمام محرومین، مستضعفین اور مظلوم لوگوں کے رہبر مانتے ہیں۔

 

امام خمینی (رہ)، مزاحمت کی حمایت اور جارحیت کے خلاف عملی نمونہ

سوریہ کے اس مصنف اور تجزیہ نگار نے کہا : امام خمینی (رہ) نے ہمیں عالمی جارحیت، استعماری اور استکباری  طاقتوں کے خلاف مقابلہ کرنے کا درس  دیا۔ اور مقابلہ اور مزاحمت کے ایجاد میں عوام کے لئے بہترین نمونہ عمل ہیں۔

حجت الاسلام الحداد سوریہ کے عوام کی نظر سے امام خمینی (رہ) کے کردار کے بارے میں کہا:بہت سارے جوان اور نوجوان سپاہی جو  اس وقت سوریہ میں تکفیری گروہوں کے مقابلہ میں جد و جہد کر رہے ہیں، اثنا عشری شیعہ نہیں ہیں، لیکن  وہ امام خمینی (رہ) اور امام خامنہ ای کو اپنے رہبر اور قائد سمجھتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ آج کل سوریہ کے انتخابات اور الیکشن  کے دن ہیں، کہا: انتخابات میں حصہ لینے کو اپنا قومی اور شہری ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اور بشار الاسد کی حمایت کرتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس دور میں اچھے واقعات رونما ہوں گے۔

جبل العلویین سوریہ کے امام جمعہ نے اظہار کیا کہ: یہ بات قابل قدر نہیں کہ بشار الاسد دوبارہ منتخب ہوں ، جو چیز قابل قدر ہے یہ ہے کہ صدر وہ ہونا چاہیے جو اپنے ملک کے اصلی اور بنیادی مسائل اور منافع کا صحیح تدبیروں کے ساتھ چلا سکے، اسلام کے قوانین میں برتاو کرے، خدا سے ڈرے، اور لوگوں کی خدمت اور عزت، اپنے کاموں کے سرفہرست  میں رکھے، جس شخص کے اندر بھی یہ خصوصیات اور خصائص موجود ہوں، اور انتخابات میں منتخب ہو جائے، وہی ہمار صدر مملکت ہوگا۔

 

ایران، ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کرنے  کو اپنے دینی مبانی اور اصولوں کے خلاف سمجھتا ہے

انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے متعلق  کہا: ہر وہ ٹکنالوجی جو عالم انسانیت اور انسانوں کے پیشرفت اور ترقی  کا باعث بنے، قابل دفاع اور قابل حمایت ہے،حالانکہ ایران رہنماووں کے نزدیک ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کو اپنے دینی اصول اور مذہبی مبانی کے خلاف سمجھتے ہیں۔

حجت الاسلام الحداد نے کہا: جو حکومتیں ، ایران کے  ایٹمی توانائی کے استعمال کرنے پر رکاوٹ  ڈالتے ہیں، اور پریشان ہیں، بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک کی چند دہائی پہلے کی تاریخ کو پھر سے پڑھیں اور دیکھیں کہ انہوں نے ایٹمی  اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے ذریعے مظلوم عوام پر کتنا ظلم اور تشدد قائم کیے رکھے ہیں۔

 

امریکہ وہ واحد ملک ہے جو ایٹمی بموں کا استعمال کرتا رہا ہے

انہوں نے تاکید کی: امریکا اور مغربی ممالک کے علاوہ کوئی ایسا ملک نہیں ہے جو انسانی حقوق کا دعویدار  ہو اوراپنے آپ کو دوسرے ممالک کا سرپرست ہونے کا علمبردار کہلائے، اور دوسری طرف اپنے ایٹمی بموں کے ذریعے لوگوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنائے۔ امریکا وہ ملک ہے جس نے ہیروشیما کو  اپنے ایٹمی اور کیمیائی  بموں  کے ذریعے تہس نہس کر ڈالا تھا۔

الحدا د نے مزید کہا: یہ نہایت مزاحیہ  بات ہے کہ وہ ملک جس نے ایٹمی ہتھیاروں بے گناہ لوگوں پر برسائے، اب ایران کی ایٹمی توانائی پر مضطرب اور پریشان ہونے لگے۔ امریکیوں اور اسرائیلیوں کی یہ بے جا پریشانی صرف ایک بچوں کی کھیل جیسا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا: بے گناہ انسانوں کا خون بہانا اور ان دو دہائیوں میں جنگ کرنا یا تو خود امریکا کی شرانگیزی اور فتنہ پردازی ہے یا تو اس کے بالواسطہ سفاک اور خون آشام نمائندوں کے ذریعے قتل و غارت کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


6 + هشت =