صفحه اصلی » خبریں » سیاسی » سعودی عرب نے ایک گولی بھی فلسطینیوں کو اپنے دفاع کے لئے نہیں دی؛ سید حسن نصراللہ

سعودی عرب نے ایک گولی بھی فلسطینیوں کو اپنے دفاع کے لئے نہیں دی؛ سید حسن نصراللہ

شائع کیا گیا 28 مارس 2015میں | کیٹیگری : سیاسی
فونٹ سائز

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے یمن کے مظلوم عوام پر سعودی عرب کے وحشیانہ اور ظالمانہ ہوائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ایک گولی بھی فلسطینیوں کو اپنے دفاع کے لئے نہیں دی، جبکہ دہشت گردوں کو شام و عراق میں بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کررہا ہے اور یمن کے نہتے عوام کے خلاف بزدل سعودیوں نے دوسرے عرب اور غیر عرب ممالک سے فوجی مدد طلب کرلی ، سعودیوں نے یہی فوجی مدد اسرائيل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں کیوں طلب نہیں کی ؟

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے یمن کے مظلوم عوام پر سعودی عرب کے وحشیانہ اور ظالمانہ ہوائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ایک گولی بھی فلسطینیوں کواپنے دفاع کے لئے نہیں دی،جبکہ دہشت گردوں کو شام و عراق بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کررہا ہے اور یمن کے نہتے عوام کے خلاف بزدل سعودیوں نے دوسرے عرب اور غیر عرب ممالک سے فوجی مدد طلب کرلی ، سعودیوں نے یہی فوجی مدد اسرائيل کے خلاف کیوں طلب نہیں کی کیونکہ سعودی عرب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کا نوکر اور غلام ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے ایران کی خطے میں مداخلت پر مبنی عربی اور مغربی پروپیگنڈے کی طرف اشارہ رکتے ہوئے کہا کہ ایران کی کسی بھی عرب ملک میں کوئی مداخلت نہیں ہے ایران حزب اللہ کی مدد کررہا ہے لیکن اپنے خیالات حزب اللہ پر مسلط نہیں کررہا ہے حزب اللہ کی مدد صرف لبنان کے دفاع تک ہے شام میں ایران کی مداخلت کے بارے میں خبریں بے بنیاد ہیں شام میں ایران کے چند فوجی مشیر شامی حکومت کی دعوت پر ہیں اسی طرح عراق میں ایران کے چند فوجی مشیر جن کی تعداد 50 سے زیادہ نہیں ہوگی وہ بھی عراقی حکومت کی دعوت پر عراق میں موجود ہیں ۔ ایران کا یمن میں کوئی وجود نہیں ہے امریکہ اور سعودی عرب ایران کے بارے میں قوموں میں خوف و ہراس پیدا کرکے علاقہ میں عدم استحکام پیدا کررہے ہیں ایران فلسطینیوں کی مدد انسانی بنیادوں پر کررہا ہے ایران لبنان ، شام،اور رعاق کی مدد انسانی بنیادوں پر کررہا ہے ایران کے پاس اپنی وسیع و عریض سرزمین ہے اسے کسی دوسرے کی کوئی ضرورت نہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے حماس کے ایک وفد کے حوالے سے کہا کہ حماس کے ایک وفد نے سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کے ساتھ ملاقات کی اور اس ملاقات میں سعود الفیصل نے حماس کے ارکان پر زوردیا کہ وہ ایران کے ساتھ رابطہ ختم کردیں حماس نے کہا کہ ٹھیک ہے جو ہماری مدد ایران کرتا ہے وہ آپ کریں تو ہم ایران سے رابطہ ختم کردیں گے سعود الفیصل نےکہا کہ ایران کیا مدد کرتا ہے حماس کے ارکان نے کہا کہ ایران ہمیں اسرائیل کے مقابلے میں فوجی مہارتوں سے آگاہ کرتا ہے ہمیں ٹریننگ دیتا ہے ہمیں ہتھیار فراہم کرتا ہے ہمیں اسرائیل کے خلاف مضبوط کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ سعودی عرب ہمیں اسرائیل کے خلاف مسلح کرے ہم ایران کے ساتھ رابطہ ختم کردیں گے تو سعودی وزير خارجہ نے کہا کہ ہم اسرائیل کے خلاف حماس کی مدد نہیں کرسکتے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ امن پسند اور مظلوم قومیں ایران کے ساتھ اس لئے ہیں کہ ایران مظلوموں کی حمایت کرتا ہے ایران ظالموں اور مستکبروں کے ساتھ نہیں ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے ایران کے خلاف جنگ میں 200 ارب ڈالر صدام کو دیئے اور پھرعراق پر حملے کے سلسلے میں امریکہ کی بھر پور مدد کی اور صدام کو اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ یہ سعودی عرب ہے جو عرب ممالک میں بے جا مداخلت کررہا ہے شام میں سعودی عرب کی مداخلت ، عراق میں سعودی عرب کی مداخلت، یمن میں سعودی عرب کی مداخلت ، بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت سب پر واضح اور نمایاں ہے، سعودی عرب نے مصر میں مداخلت کرکے مصر کے جمہوری صدر محمد مرسی کو جیل بھجوادیا ، مصر میں سعودی عرب کی مداخلت لیبیا میں سعودی عرب کی مداخلت سب پر عیاں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ شام کے مسئلہ میں سعودی عرب ، ترکی اور قطر سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور تینوں ممالک خطے میں امریکی مفادات کے لئے کام کررہے ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ آل سعود حکام کب تک امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کرتے رہیں گے آخر ایک دن انھیں اپنے سنگين اور ہولناک جرائم کا حساب دینا پڑےگا ۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ آل سعود یمن پر وحشیانہ بمباری روک دیں ورنہ اس کے سنگين نتائج برآمد ہوں گے۔ آل سعود بزدل ہیں اسی لئے انھوں نے مصر، اردن، پاکستان اور دیگر ممالک سے مدد طلب کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودیوں میں اور یمنیوں میں بہت بڑا فرق ہے سعودی مشرک ہیں جو مصر اور دیگر ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں جبکہ یمنی موحد ہیں جو صرف اللہ تعالی سے مدد مانگ رہے ہیں اور اللہ تعالی کے سوا ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں۔اگر سعودیوں نے بہیمانہ کارروائياں بند نہ کیں تو پورے خطے میں آگ لگ جائے گی جس کی ذمہ داری سعودی عرب حکومت پر عائد ہوگی اور اس جنگ میں اللہ تعالی کی مدد اور نصرت یمنیوں کے ساتھ رہے گی۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


نُه + = 17