صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » حدیث سِلسِلَۃ الذَّهَب کی حدیثی اور روائی عظمت

حدیث سِلسِلَۃ الذَّهَب کی حدیثی اور روائی عظمت

شائع کیا گیا 15 آگوست 2016میں | کیٹیگری : آج کا تبصرہ
فونٹ سائز

حدیث سِلسِلَۃ الذَّهَب حدیث قدسی میں سے توحید خداوندی اور اس کے شرائط کی باب میں امام رضا (علیہ السلام) سے منسوب اس حدیث کو کہا جاتا ہے جسے آپ (علیہ السلام) نے مامون رشید کے حکم پر مدینہ سے مرو جاتے ہوئے نیشابور کے مقام پر بیان فرمایا۔ امام (علیہ السلام) نے اس حدیث میں خود (امامت) کو توحید کی شرط قرار دی۔

چونکہ اس حدیث کے تمام راوی پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تک امام معصوم‌ ہیں اور آخرکار اس کا سلسلہ خداوند عالم تک پہنچتا ہے اسے “حدیث سلسلۃ الذهب” یعنی “زرّین سلسلہ” کہا جاتا ہے۔

حدیث کا متن اور ترجمہ

شیخ صدوق نے کتاب التوحید میں اس یوں نقل کیا ہے کہ اسحاق بن راہویہ کہتا ہے: جب امام رضا(علیہ السلام) خراسان جاتے ہوئے نیشابور کے مقام پر پہنچے اور وہاں سے مأمون کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو نیشابور کے مُحدِّثین جمع ہوئے اور عرض کیا:‌یا بن رسول اللہ صلّی اللَّه علیہ و آلہ و سلّم ہمارے شہر سے تشریف لے جاتے ہو کیا ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں فرمائیں گے؟ محدثین کی اس فرمائش پر امام رضا (علیہ السلام) نے اپنا سر اونٹ کے کجاوے سے باہر نکالا اور فرمایا: “میں اپنے والد گرامی، موسی بن جعفر(علیہ السلام) سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے والد گرامی، جعفر بن محمّد(علیہ السلام) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی، محمّد بن علی(علیہ السلام) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی، علی بن الحسین علیہما السّلام سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی، حسین بن علی(علیہ السلام) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی، امیرالمؤمنین علی بن أبی طالب(علیہ السلام) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے جبرئیل سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پروردگار عزّ و جلّ سے سنا کہ خداوند عالم فرماتے ہیں: “اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ‏ حِصْنِی‏ فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا”

ترجمہ:…خداوند جل جلالہ نے فرمایا: کلمہ “لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ” میرا مضبوط قلعہ ہے، پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہوگا وہ میری عذاب سے محفوظ رہے گا۔ جب آپ کی سواری چلنے لگی تو امام رضا(علیہ السلام) نے فرمایا البتہ کچھ شرائط کے ساتھ اور میں ان شرائط میں سے ہوں۔[1] [2]

 نام رکھنے کا سبب

یہ حدیث، “حدیث سلسلۃ الذّہب” [یعنی زرّین سلسلہ] سے معروف ہے۔ یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کی سند کے اندر موجود تمام راوی معصوم ہیں یعنی امام رضا(علیہ السلام) نے امام موسی کاظم(علیہ السلام) سے انہوں نے امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے یہاں تک کہ یہ سلسلہ ہمارے پہلے امام، امام علی(علیہ السلام) تک پہنچتا ہے اور حضرت علی(علیہ السلام) نے اس حدیث کو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اسے جبرئیل کے توسط سے خود خداوند عالم سے نقل کیا ہے۔ اسی لئے یہ حدیث، احادیث قدسی میں بھی شمار ہوتا ہے۔ [3]

حدیث کی وضاحت

شیخ صدوق علیہ الرحمۃ، امام رضا (علیہ السلام) کے کلام کو اپنی کتاب توحید میں نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: امام(علیہ السلام) کے کلام کے معنی یہ ہے کہ کلمہ “لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ‏” کی قبولیت کی شرط میری امامت پر اقرار کرنا ہے اور یہ اقرار کرنا کہ میں خدا کی جانب سے منصوب امام ہوں جس کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب ہے۔ [4]

حدیث کی کتابت

امام رضا(علیہ السلام) کے نیشابور پہنچنے کے بعد ابو زرعہ رازى اور محمد بن اسلم طوسى سمیت محدثین اور راویوں کی بے شمار تعداد امام(علیہ السلام) کے ہاں آتے ہیں اور آپ(علیہ السلام) سے درخواست کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے کوئی حدیث نقل کریں۔ اس وقت امام(علیہ السلام) نے مذکورہ حدیث کا متن ان کیلئے بیان فرمایا۔

بعض تاریخی منابع کے مطابق جنہوں نے اس موقع پر اس حدیث کو لکھا ان کی تعداد 20 ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ ایک اور قول کی بنا پر یہ تعداد 24 ہزار تک پہنچتی ہے۔ [5]

اہل سنت مآخذ

اہل سنت منابع میں بھی یہ حدیث موجود ہے اور ان میں سے اکثر منابع میں ” وانا من شروطها” کا جملہ بھی موجود ہے [6][7] حتی اہل سنت کے بعض منابع میں میں آیا ہے کہ اس حدیث کو اگر کسی مجنون پر پڑھی جائے تو اسے جنون سے افاقہ ملے گا۔ [8]

ابن صباغ مالکی اس حدیث کو بیان کرنے کے ضمن میں اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔[9]

حوالہ جات
1. ابن بابویہ، کتاب التوحید، ص۴۹.
2. صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص۲۱-۲۲.
3. صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص۲۲.
4. صدوق، التوحید، ص۲۵.
5. أعيان الشيعۃ، محسن الأمين ،ج‏2،ص:18
6. ینابیع المودہ، ص 364
7. فيض القدير، ص 489،490
8. الصواعق المحرقۃ،اص 205
9. الفصول المہمّۃ ص253 و 254

 

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


7 + = هشت