صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » جاہلیت اور اسلام ميں عورت اور مرد ميں مساوات کے اعتبار سے موازنہ

جاہلیت اور اسلام ميں عورت اور مرد ميں مساوات کے اعتبار سے موازنہ

شائع کیا گیا 26 آگوست 2016میں | کیٹیگری : آج کا تبصرہ, اسلامی ثقافت, مذہب
فونٹ سائز

اسلام کي آمد سے انساني تاريخ ميں ايک بہت بڑا انقلاب برپا ہوا اور فکر و نظر کي دنيا ہي بدل گئي۔

معاشرتي طور پر انساني اقدار ميں تبديلياں رونما ہوئيں اور انسان نے ايک نۓ انداز سے سوچنا شروع کر ديا۔جہالت کے دور کے طور طريقے اور رسوم و آداب اسے اب برے لگنے لگے اور اسلام کے بتاۓ ہوۓ اصولوں اور نئي زندگي نے ايک اعلي اقدار کے معاشرے کي بنياد رکھ کر انساني زندگي ميں خوشياں اور اميد کي کرن روشن کر دي۔

عورت انساني معاشرے کا ايک ايسا باب تھي جسے وہ اہميت نہيں دي جاتي تھي جس کي وہ حقدار تھي۔ اس صنف نازک کے ساتھ بہت ہي برا سلوک کيا جاتا تھا مگر اسلام کي آمد کے بعد اسلامي تعليمات کي روشني ميں اس صنف نازک کو اس کے حقوق ملے اور انسان کا عورت کے بارے ميں پورا نقطۂ نظر اور عملي رويہ بدل گيا اور عورت اور مرد کے تعلقات نئي بنيادوں پر قائم ہوئے۔

اسلام سے پہلے عورت کي تاريخ مظلومي اور محکومي کي تاريخ تھي۔ اسے کم تر اور فرو تر سمجھا جاتا تھا، اسے سارے فساد اور خرابي کي جڑ کہا جاتا اور سانپ اور بچھو سے جس طرح بچا جاتا ہے اس طرح اس سے بچنے کي تلقين کي جاتي تھي۔ بازاروں ميں جانوروں کي طرح اس کي خريد و فروخت ہوتي تھي۔ اس کي کوئي مستقل حيثيت نہيں تھي بلکہ وہ مرد کے تابع تھي۔ اس کا کوئي حق نہيں تھا۔ وہ مرد کے رحم و کرم پر جيتي تھي۔ اسلام نے اس کي محکومي کے خلاف اتنے زور سے آواز بلند کي کہ ساري دنيا اس سے گونج اٹھي اور آج کسي ميں يہ ہمّت نہيں ہے کہ اس کي پيچھلي حيثيت کو صحيح اور بر حق کہہ سکے۔ اس نے پوري قوت سے کہا۔
“يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا”
ترجمہ:
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہيں ايک جان سے پيدا کيا اور اسي سے اس کا جوڑا بنايا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتيں پھيلا ديے اور اللہ سے ڈرو جس کے ذريعہ تم ايک دوسرے سے مدد طلب کرتے ہو اور رشتوں کا احترام کرو۔ بشک اللہ تمہيں ديکھ رہا ہے۔(النساء/ آیت نمبر 1)
يہ اس بات کا اعلان تھا کہ ايک انسان اور دوسرے انسان کے درميان جو جھوٹے امتيازات دنيا نے قائم کر رکھے ہيں وہ سب باطل ہيں۔ ان کي کوئي بنياد نہيں ہے۔ سارے انسان نفسِ واحد سے پيدا ہوئے ہيں۔ سب کي اصل ايک ہے۔ پيدائشي طور پر نہ تو کوئي شريف ہے اور نہ رذيل، نہ کوئي اونچي ذات کا ہے اور نہ نيچي ذات کا۔ سب برابر اور مساوي حيثيت کے مالک ہيں۔ خاندان، قبيلہ، رنگ و نسل، ملک و قوم، زبان اور پيشہ کي بنياد پر ان کے درميان کسي بھي قسم کي تفريق غلط اور ناروا ہے۔
عورت اور مرد کے درميان زمانۂ قديم سے جو فرق و امتياز تھا يہ اس کي بھي ترديد ہے۔ اس ميں يہ حقيقت واضح کي گئي ہے کہ انسانِ اوّل کا جوڑا کسي اور نوع سے نہيں تھا بلکہ اسي کي نوع سے تھا۔ کوئي دوسري مخلوق اس کي رفاقت کے لئے اس کے ساتھ لگا نہيں دي گئي تھي بلکہ وہ اسي سے نکالي گئي تھي۔ اس اوّلين جوڑے سے بے شمار مرد اور عورتيں پيدا ہوئے، ان کے درميان رشتے اور تعلقات قائم ہوئے اور پوري نسلِ انساني پھيلي۔ اس ليے دونوں کے درميان فرق و امتياز نوعِ انساني کے ايک بازو اور دوسرے بازو کے درميان فرق و امتياز ہے۔ ايک کل کے دو اجزاء کے مابين تفريق ہے۔ مساوات مرد و زن اور دونوں کي يکساں حيثيت کے اظہار کے ليے اس سے بہتر تعبير کا تصّور نہيں کيا جا سکتا۔
اسي کے ساتھ فرمايا گيا کہ سارے انسان ايک خدا کے بندے اور ايک ماں باپ کي اولاد ہيں اس ليے انہيں ايک طرف تو خدا کي عبادت اور تقويٰ اختيار کرنا چاہئے اور اس سے ڈر کر زندگي گزارني چاہئے، دوسري طرف جو رشتے اور تعلقات ان کے درميان ہيں ان کا احترام کرنا چاہئيے۔ اس ميں مرد کے احترام کے ساتھ عورت کے بھي احترام کي تاکيد تھي۔
اسلام نے اس تصور ہي کي جڑ کاٹ دي کہ مرد اس ليے باعزت اور سر بلند ہے کہ وہ مرد ہے اور عورت محض عورت ہونے کي وجہ سے فرو تر اور ذليل ہے۔ اس کے نزديک عورت اور مرد دونوں برابر ہيں۔ ازلي و ابدي طور پر نہ تو کسي کي برتري لکھ دي گئي ہے اور نہ کسي کي کم تري۔ اس ميں سے جو بھي ايمان اور حسنِ عمل سے آراستہ ہوگا وہ دنيا و آخرت ميں کامياب ہوگا اور جس کا دامن بھي ان اوصاف سے خالي ہوگا وہ دونوں ہي جگہ ناکام و نامراد ہوگا۔
“مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ” (النحل/ آیت نمبر 97)
ترجمہ: جو شخص بھي نيک عمل کرے گا چاہے وہ مرد ہويا عورت اگر وہ مومن ہے تو ہم (اس دنيا ميں) اسے اچھي زندگي بسر کرائيں گے اور (آخرت ميں) ايسے لوگوں کو ضرور ان اچھے کاموں کا اجر عطا کريں گے۔
اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چودہ سو سال قبل اس وقت دئيے تھے۔ جب عورت کے حقوق کا تصور ابھي دنيا کے کسي بھي معاشرہ ميں پيدا نہيں ہوا تھا۔ عورت اور مرد کي مساوات کا نظريہ دنيا ميں سب سے پہلے اسلام نے پيش کيا اور اس طرح عورت کو مرد کي غلامي سے نجات دلائي جس ميں وہ صديوں سے جکڑي ہوئي تھي اس مساوات کي بنياد قرآن مجيد کي اس تعليم پر ہے جس ميں فرمايا گيا کہ:”‌ تم (مرد) ان کے (عورت) کے لئے لباس ہو اور وہ تمہارے لئے لباس ہيں-“
اس طرح گويا مختصر ترين الفاظ اور نہايت بليغ انداز ميں عورت اور مرد کي رفاقت کو تمدن کي بنياد قرار ديا گيا اور انہيں ايک دوسرے کے لئے ناگزير بتاتے ہوئے عورت کو بھي تمدني طور پر وہي مقام ديا گيا ہے جو مرد کو حاصل ہے-
نبي کريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے حجۃ الودع کے خطبہ ميں ارشاد فرمايا:
”‌ عورتوں کے معاملہ ميں خدا سے ڈرو تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔“
يہاں بھي عورت کو مرد کے برابر اہميت دي گئي ہے اور عورتوں پر مردوں کي کسي قسم کي برتري کا ذکر نہيں ہے اس طرح تمدني حيثيت سے عورت اور مرد دونوں اسلام کي نظر ميں برابر ہيں۔ اور دونوں کو يکساں اہميت حاصل ہے۔

يہ تعليمات اس کائناتي حقيقت پر مبني ہيں کہ ہر انسان ايک دوسرے کا محتاج ہے اور ہر شے ايک دوسرے کي تکميل کرتي ہے۔ اور اس طرح سب کو يکساں اہميت حاصل ہوتي ہے۔ ليکن ساتھ ہي اس بات سے بھي انکار نہيں کيا جا سکتا کہ دنيا کا کوئي بھي تعلق ہو اس ميں ايک فريق کو کچھ نہ کچھ غلبہ حاصل ہوتا ہے يہ ايک فطري اصول ہے۔ اور اسي بناء پر چند چيزوں ميں مرد کو عورت پر برتري اور فضيلت حاصل ہے۔ اس کي وجہ حياتياتي اور عضوياتي فرق بھي ہے اور فطرت کے لحاظ سے حقوق و مصالح کي رعايت بھي ہے اسي لئے قران نے مرد کو عورت پر نگران اور ”‌قواميت“ کي فوقيت دي ہے۔ مگر دوسري جانب اسلام نے ہي عورت کو يہ عظمت بخشي ہے کہ جنت کو ماں کے قدموں تلے بتايا ہے گويا کچھ باتوں ميں اگر مرد کو فوقيت حاصل ہے تو تخليقي فرائض ميں عورت کو بھي فوقيت حاصل ہے۔ فرق صرف اپنے اپنے دائرہ کار کا ہے۔ يہي وہ تعليمات ہيں جنہوں نے دنيا کي ان عظيم خواتين کو جنم ديا کہ زندگي کے ہر ميدان ميں ان کے روشن کارنامے تاريخ اسلام کا قابلِ فخر حصہ ہيں-
شوہر کو بيوي کا باس(Boss) قرار دينے کي وجہ بيان کرنے کے بعد قرآن مجيد نے اچھي بيوي کي دو صفات بيان کي ہيں: ايک يہ کہ وہ فرماں بردار ہوتي ہے اور دوسرے يہ کہ گھر کے بھيدوں کي حفاظت کرتي ہے۔ اس کے بعد اگر بيوي شوہر کي اس حيثيت کو ماننے سے انکار کردے تو قرآن مجيد نے اصلاح کے ليے نصيحت، بستر سے عليحدگي اور بدرجہ آخر مارنے کا طريقہ اختيار کرنے کي ہدايت کي ہے۔
اگر اللہ کے دين ميں ديا گيا خانداني نظام پيش نظر ہو تو اس ميں يہ ساري باتيں معقول ہيں۔ البتہ اگر خانداني نظام کے بجائے معاشرے کو کسي دوسرے طريقے پر استوار کرنا پيش نظر ہے تو پھر نہ ان ہدايات کي ضرورت ہے اور نہ کسي خصوصي اختيار اور حيثيت کي۔
قانون وراثت کے ضمن ميں عرض ہے کہ اس کي اساس خود اللہ تعاليٰ نے بيان کردي ہے۔ اللہ تعاليٰ نے بتايا ہے کہ وراثت کے يہ احکام اس ليے ديے گئے ہيں کہ تم خود سے بالعموم ٹھيک متعين نہيں کر سکتے کہ مرنے والے سے منفعت ميں سب سے زيادہ کون قريب ہے، اس ليے ہم نے خود سے حصے مقرر کر ديے ہيں۔ ہم اوپر بيان کر چکے ہيں کہ مرد کو کفيل ٹھہرايا گيا ہے۔ چنانچہ اولاد کے مردوں پر آيندہ کفالت کي ذمہ داري ہے۔ لہٰذا انھيں زيادہ حصہ ديا گيا ہے۔ اسي قانون ميں ماں باپ کا حصہ برابر ہے، حالاںکہ ان ميں بھي ايک مرد اور ايک عورت ہے، اس کي وجہ يہ ہے کہ اب اس پر معاش کي ذمہ داري کي وہ صورت نہيں ہے۔
ہر قانون اور ضابطہ کچھ مصالح اور مقاصد کو سامنے رکھ کر بنايا جاتا ہے۔ قانون پر تنقيد کرنے سے پہلے ضروري ہے کہ اس مصلحت اور مقصد کو سمجھا جائے۔ دو صورتيں ہوں گي: ہميں اس مقصد اور مصلحت ہي سے اتفاق نہ ہو، پھر بحث اس موضوع پر ہو گي۔ دوسري يہ کہ اس مصلحت اور مقصد کو يہ قانون پورا نہ کرتا ہو۔ اس صورت ميں گفتگو اس دوسرے پہلو سے ہوگي۔

قرآن مجيد کا معاملہ يہ ہے کہ يہ عليم و خبير خداوند عالم کي کتاب ہے۔ يہ کيسے ممکن ہے کہ اس کي کوئي بات انساني فطرت اور عقل و فہم کے موافق نہ ہو۔ ہم اپني کوتاہي دور کر ليں، ہر چيز واضح ہو جاتي ہے۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


5 + = هفت