صفحه اصلی » خبریں » سیاسی » جامع مذاکرات، فریقین کیلئے صداقت کی آزمائش کا مظہر؛ ایرانی نائب وزیر خارجہ

جامع مذاکرات، فریقین کیلئے صداقت کی آزمائش کا مظہر؛ ایرانی نائب وزیر خارجہ

شائع کیا گیا 24 مارس 2015میں | کیٹیگری : سیاسی
فونٹ سائز

ایران کے نائب وزیرخارجہ اور اعلی جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جامع سمجھوتہ دونوں فریق کیلئے صداقت کی آزمائش کا مظہر ہونا چاہیئے۔

ایران کے نائب وزیرخارجہ اور اعلی جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے امریکی صدر بارک اوبامہ کے اس بیان کے ردعمل میں کہ ایران کے اقدامات سچائی کی آزمائش کے قابل اور مزید نگرانی کو قبول کئے جانے کے مظہر ہونے چاہیئیں، کہا کہ اگر سمجھوتہ ہوتا ہے تو دونوں فریق کے اقدامات سچائی کی آزمائش کے قابل ہونے چاہیئیں۔

ایران کے نائب وزیرخارجہ اور اعلی جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا کہ ممکنہ مختلف مسائل و بے جا تشویش کے پیش نظر ہم نے اعلان آمادگی کیا ہے کہ جوہری پروگرام کے سلسلے میں اور زیادہ اعتماد کی بحالی سے متعلق اقدامات انجام دیں گے تاہم ان اقدامات کے مقابلے میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی ضمانت اور پابندیوں کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔

انھوں نے امریکی صدر بارک اوبامہ کے اس بیان کے جواب میں کہ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا امکان رہنا چاہیئے، کہا کہ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ متعادل اور متوازن اور پہلی حالت میں واپس لوٹنے کا امکان دونوں فریقوں کے لئے موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں اسی اصول کا خیال رکھا ہے۔ عباس عراقچی نے امریکی صدر کے اس بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ ایران نے ابھی مذاکرات میں ضروری مراعات نہیں دی ہیں، کہا کہ ایسا کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے کہ ہماری طرف سے مراعات دی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کوشش کررہا ہے کہ اعتماد کا ماحول بنایا جائے، مذاکرات کا مقصد، ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا اور پابندیوں کو اٹھانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت بہت حساس مرحلہ ہے اور سمجھوتے پر پہنچنے کیلئے مقابل فریق میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے مگر یہ بات قابل افسوس ہے کہ حالیہ مذاکرات میں اس ہم آہنگی کا فقدان رہا ہے اگر ہم آہنگی اور عزم و ارادہ ہو تو سمجھوتے تک پہنچا جاسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


2 + شش =