صفحه اصلی » عراقی انٹرویوز » تمام اسلامی ممالک، ایران کے ساتھ ساتھ قدم بڑھائیں؛ علی عباس عبد

تمام اسلامی ممالک، ایران کے ساتھ ساتھ قدم بڑھائیں؛ علی عباس عبد

شائع کیا گیا 03 آوریل 2015میں | کیٹیگری : عراقی انٹرویوز
فونٹ سائز

السلام علیکم؛ اپنا تعارف کرائیں اور بتائیے کہ آپ کا کیا پیشہ ہے؟

میرا نام علی عباس عبد ہے میری عمر 44 سال ہے اور میں نجف اشرف کا رہنے والا ہوں۔ میں عراق کے وزارت صنعت کے تعلقات عامہ (پبلک ریلیشنز) کے سیکشن میں کام کرتا ہوں۔

اب تک آپ کتنی دفعہ ایران آچکے ہیں اور بتائیے آپ کی رائے انقلاب اسلامی کے بارے میں کیا ہے؟

میں اب تک 4 دفعہ ایران آچکا ہوں۔ ایران آنے سے پہلے میڈیا میں یہ دیکھایا جاتا تھا کہ ایران اسلام کو فروغ دینے میں سرگرم ہے اور چاہتا ہے کہ اسلام کو پوری دنیا میں پھیلائے۔ جب میں ایران آیا تو دیکھا کہ ایران، تعمیرات عامہ اور لوگوں کا سماجی قوانین پر گامزن اور عمل پیرا ہونے کے اعتبار سے بہت ترقی کرچکا ہے۔ میں یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوا کیونکہ ایک شیعہ حکومت اس حد تک کامیابیاں اور ترقیاں حاصل کر چکی ہے۔

آپ کی امام خمینی علیہ الرحمۃ کے بارے میں کیا ہے؟

امام خمینی علیہ الرحمۃ ہمیشہ خداوند متعال کی مرضی کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ وہ ایک عظیم اور بڑے قائد تھے اور انہوں نے اکیلے عالمی سیاسی توازن جو اس وقت مغربی طاقتوں کے نرغہ میں تھی کو بدل دیا اور صحیح  لفظوں میں ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ میری رائے یہ ہے کہ ان شاء اللہ وہ دن آئے جو تمام اسلامی ممالک، ایران کے ساتھ ساتھ قدم بڑھائیں؛ کیونکہ ایران اسلامی ہمیشہ صحیح اصولوں پر چلتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا قائد ایک مدبر و مدیر رہبر ہے۔ ایرانی عوام سے کہوں گا کہ آپ کو اس انقلاب کی کامیابی پر مبارکباد ہو  کیونکہ اس نے آپ کو ظلمت و اندھیرے سے نکال کر نور کی طرف ہدایت دی۔ اور یہ سب امام خمینی علیہ الرحمۃ کے وجود کی برکت سے وجود میں آیا۔

آپ کا بہت شکرگذار ہوں کے آپ نے مجھے وقت دیا۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


4 + = پنج