صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » انقلاب سے پہلے سیاسی حالات کا پس منظر (حصہ اول)

انقلاب سے پہلے سیاسی حالات کا پس منظر (حصہ اول)

شائع کیا گیا 30 ژانویه 2016میں | کیٹیگری : آج کا تبصرہ, پیدائش, تاریخ, سامراجی نظام سے مقابلہ
فونٹ سائز

سلاطین اور بادشاہت کے سلسلے کے  بھیانک آثار

صرف وہ معاشرے انقلاب کے لئے تیار ہوتے ہیں، جن کا حکومت سے رابطہ نہیں ہوتا، اور بر سر اقتدار سیاسی حکومت معاشرہ کے ان طبقوں سے دور رہ کر عوامی حمایت کو کھو دیتی ہے اور معاشرہ میں دو قطبی (دو بعدی) حکمرانی کارفرما ہوتی ہے۔

ایران میں بہت پہلے سے ایسے حالات وجود میں آچکے تھے؛ اس معنی میں کہ کم ایسا وقت آیا ہے کہ سیاسی حکومت عوامی محبوبیت اور مقبولیت کی حامل رہی ہو اور اصولی طور پر لوگوں کی محرومیت اور ثقافتی استضعاف کی وجہ سے سیاسی حکومتیں اپنے آپ کو اس قسم کی مقبولیت کی محتاج بھی نہیں سمجھتی تھی۔

ایران میں سیاسی اقتدار کا اصلی محور ہمیشہ سے سلاطین تھے اور بادشاہت کا سلسلہ ایران میں بہت قدیمی اور طولانی رہا ہے کہ جس میں حکومت کی باگ ڈور خاندانی بنیادوں پر حاصل کی جاتی تھی۔ اسلامی انقلاب کا پس منظر اور اس کے نتائج نیز اپنے داخلی یا خارجی دشمن سے بر سر پیکار ہو کر ان پر غلبہ کر کے حکومت کا کنٹرول ہاتھ میں لیا جاتا تھا۔ اکثر سلاطین گستاخ، خونریز اور خود غرض ہوا کرتے تھے اور ان کے سلسلہ کا جاری رہنا زمانہ کے حالات، قابلیت اور اپنے دشمنوں کو کچلنے کے حوالے سے ان کی لیاقت پر منحصر ہوتا تھا۔ اس ملک کی پوری تاریخ میں، بہت سے سلاطین جو قدرت و ثروت کے مالک بنے ہیں، اپنی شہرت و اقتدار کے عروج پر پہنچنے کے باوجود المناک حادثہ سے دوچار ہوئے ہیں۔ گزشتہ دوصدیوں کے دوران صرف تین بادشاہ اپنی طبیعی موت سے مرے ہیں اور باقی یا قتل ہوئے ہیں یا جلا وطنی کے عالم میں انھیں موت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ محمد رضا شاہ اور اس کا باپ شاہی سلسلہ کے آخری دو شخص تھے کہ دونوں جلاوطنی کے عالم میں دنیا سے چل بسے۔

گزشتہ دوصدیوں کے دوران مغربی سامراج کے آغاز اور اس کے پھیلاؤ اور دنیا کے دوسرے ممالک میں یورپی ملکوں کے نفوذ کے نتیجہ میں ایران بھی اپنی اسٹریٹجک حالات اور زیرزمین منابع کے پیش نظر یورپی ممالک کی توجہ کا مرکز بنا۔ یہ توجہ بذات خود سیاسی اقتدار کی تبدیلی کا ایک اور اہم سبب قرار پایا۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے برطانیہ اور روس کے درمیان منافع کا تضاد اور اس جنگ کے بعد دوبڑی طاقتوں، امریکہ اور سوویت یونین کے تحت دنیا کا دو بلاکوں میں تقسیم ہو جانا، امریکہ کے لئے عالمی سیاست کی کھیل میں قدم رکھنے کا سبب بنا اور اس سبب نے دنیا کو دو طاقتوں کے درمیان رقابت کے میدان میں تبدیل کر دیا۔ ایران بھی ان رقابتوں سے محفوظ میں نہ رہ سکا۔ یہ رقابتیں ایران کی سیاسی اقتدار کے ثبات اور بے ثباتی کے حوالے سے نہایت اہم عوامل کے تناظر میں دیکھی جاتی ہیں۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ 1 = شش