صفحه اصلی » انقلاب اسلامی » ثمرات » انقلاب اسلامی ایران کے فوجی ثمرات

انقلاب اسلامی ایران کے فوجی ثمرات

شائع کیا گیا 14 سپتامبر 2015میں | کیٹیگری : ثمرات
فونٹ سائز

1. صدام کی بعثی رژیم کے فوجی حملوں کے مقابلے میں جانانہ دفاع:
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی عالمی استعماری قوتوں نے اس انقلاب کو ختم کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر سازشیں شروع کر دیں۔

انہیں سازشوں کا ایک حصہ ایران کے پڑوسی ملک عراق میں حکمفرما بعثی رژیم کے سربراہ صدر صدام حسین کو ایران کے خلاف اکسا کر ایران پر فوجی حملے کی ترغیب دلوانا تھا۔ صدام حسین نے مغربی و عربی ممالک کے اکسانے پر ایران پر دھاوا بول دیا۔ ایران میں اس وقت اسلامی انقلاب کو کامیاب ہوئے صرف چند ماہ ہی گزرے تھے اور ملک کی باقاعدہ آرمڈ فورسز انتشار کا شکار تھیں۔ لہذا امام خمینی رحمہ اللہ علیہ نے ملک کے دفاع کیلئے عام شہریوں کو نئی فوج تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

ایرانی عوام نے اپنے انقلابی جوش و جذبے کے تحت ملک کا دفاع شروع کر دیا۔ انقلابی عوام کے ذریعے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور بسیج تشکیل دی گئی جنہوں نے شوق شہادت اور جذبہ جہاد کے ذریعے مغربی اور عربی دنیا کی مکمل حمایت سے برخوردار بعثی رژیم کی فوج کو شکست دے دی اور ملک کا ایک انچ بھی دشمن کے قبضے میں نہیں جانے دیا۔
ایران پر تھونپی گئی اس آٹھ سالہ جنگ میں نہ صرف عالمی استعماری طاقتیں اپنا کوئی ہدف حاصل نہ کر پائیں بلکہ جنگ کے خاتمے پر اقوام متحدہ کی جانب سے عراق کو جارح کے طور پر متعارف کروایا گیا جو انقلاب اسلامی ایران کی ایک اور بڑی کامیابی جانی جاتی ہے۔ اس جنگ کے بارے میں سب سے بہترین جملہ خود امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کا ہے جس میں انہوں نے فرمایا:
“ہم نے اس جنگ میں اپنا انقلاب پوری دنیا میں پھیلا دیا ہے۔ ہم نے اس جنگ میں اپنی مظلومیت اور اپنے دشمنوں کے ظالم ہونے کو ثابت کر دیا ہے۔ ہم نے اس جنگ میں عالمی استعماری طاقتوں کے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ہم نے اس جنگ میں اپنے دوستوں اور دشمنوں کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ ہم اس جنگ میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمیں اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اس جنگ میں دو بڑی عالمی طاقتوں یعنی مغرب اور مشرق کا رعب و دبدبہ ختم کر ڈالا ہے۔ اس جنگ کی برکت سے ہماری فوجی صنعت نے بہت ترقی کی ہے۔ سب سے زیادہ اہم یہ کہ یہ جنگ ہمارے اندر انقلابی اسلام کی روح کے زندہ اور باقی رہنے کا باعث بنی ہے”۔
2. سپاہ پاسداران اور بسیج کی تشکیل:
انقلاب اسلامی ایران کے بڑے افتخارات میں سے ایک امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کے فرمان پر سپاہ پاسداران اور بسیج کی تشکیل ہے۔ الہی جذبے سے سرشار یہ دو عوامی فورسز اپنی تشکیل کے آغاز سے ہی عالمی استعماری طاقتوں اور ملک کے اندر موجود ان کے پٹھووں کی جانب سے انجام پانے والی شیطانی سرگرمیوں اور تخریب کاریوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انقلاب کے فورا بعد امریکی ایماء پر ایران کے سرحدی علاقوں جیسے کردستان، خوزستان، سیستان بلوچستان وغیرہ میں قومی فتنوں نے جنم لیا جن کا سپاہ پاسداران اور بسیج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس کے بعد صدر صدام حسین نے مغربی اور عربی رژیموں کی ایماء پر ایران پر دھاوا بول دیا جس کے بعد آٹھ سال تک انہیں انقلابی جوانوں نے پوری شجاعت اور بہادری سے ملک کا دفاع کیا۔ ان قربانیوں نے سپاہ پاسداران اور بسیج کو امت مسلمہ کے اندر ہر دلعزیز بنا دیا اور یہ دو خدائی فورسز الہی جذبے، خلوص نیت اور ایثارگری کا بہترین نمونہ بن کر ابھریں۔
امام خمینی رحمہ اللہ علیہ اپنی تقریروں کے دوران سپاہ پاسداران اور بسیج کو ان الفاظ کے ساتھ یاد کرتے تھے:
“میں سپاہ سے بہت خوش ہوں اور کبھی بھی ان سے غافل نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر سپاہ نہ ہوتی تو ملک بھی نہ ہوتا۔ کاش میں بھی ایک پاسدار ہوتا۔ بسیج خدا کا مخلص لشکر ہے۔ مجھے ہمیشہ بسیجیوں کے خلوص نیت اور دل کی پاکیزگی پر رشک محسوس ہوتا ہے اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے بسیجیوں کے ساتھ محشور کرے۔ مجھے فخر ہے کہ میں خود بھی ایک بسیجی ہوں۔ بسیج میں تربیت پانے والے افراد نے گمنامی میں اپنا نام کمایا ہے”۔
3. فوجی میدان میں خودکفائی کا حصول:
اس وقت ایران کی آرمی اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے زیر استعمال فوجی سازوسامان کی اکثریت خود ایرانی ساختہ ہے۔ ایران نے مختلف قسم کے میزائل، توپیں، راکٹ لانچرز، ہیلی کاپٹرز اور فائٹر طیاروں کے اسپیئر پارٹس، کنٹرول سسٹمز اور مختلف قسم کے جنگی آلات کی تیاری کے میدان میں خاطرخواہ ترقی کی ہے۔ ایران آرمی، سپاہ پاسداران اور وزارت دفاع کی جانب سے تیار ہونے والے فوجی آلات ایران کی فوجی خودکفائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران فوجی سازوسامان کی تیاری کے علاوہ فوجی آلات کی تعمیر، نگہداشت اور انہیں ماڈرنائز کرنے اور اسی طرح افراد کو فوجی ٹریننگ دینے کے میدان میں بھی خودکفائی کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ لہذا آج ایران کی آرمڈ فورسز کو دنیا کی طاقتورترین فوجوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ شش = 9