صفحه اصلی » انقلاب اسلامی » ثمرات » انقلاب اسلامی ایران کے ثقافتی ثمرات

انقلاب اسلامی ایران کے ثقافتی ثمرات

شائع کیا گیا 14 سپتامبر 2015میں | کیٹیگری : ثمرات
فونٹ سائز

1. مغربی ثقافتی اقدار کی نفی اور ثقافتی یلغار کا مقابلہ:
جدید استعمار نے تیسری دنیا کے ممالک میں موجود قدرتی وسائل کی لوٹ مار کیلئے اپنے جدید ہتھکنڈوں کی بنیاد دنیا پر ثقافتی تسلط پر استوار رکھی ہے۔ لہذا اس مقصد کیلئے مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی منظم اور منصوبہ بندی کے تحت ثقافتی یلغار کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

مغربی سازشوں کے تحت شروع کی گئی اس ثقافتی یلغار کا مقصد بنیادی مسلمانوں کو ان کی حقیقی اسلامی ثقافت سے بیگانہ کرتے ہوئے مسلم دنیا پر اپنا ثقافتی تسلط قائم کرنا ہے۔ امام خمینی رحمہ اللہ علیہ نے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجوہات کو صحیح معنوں میں درک کرتے ہوئے انہیں اس طرح مخاطب قرار دیا تھا:
“ہمارے معاشرے کے بعض افراد اس قدر مغرب کے فریفتہ ہو گئے ہیں کہ گویا دنیا میں مغرب کے علاوہ کچھ اور موجود ہی نہیں۔ مغرب کے ساتھ یہ ذہنی، فکری اور عقلی وابستگی دنیا کی اقوام اور ہماری قوم کو درپیش اکثر مشکلات کا حقیقی منشاء ہے”۔
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی ثقافت اور اسلامی اقدار کے احیاء پر خاص توجہ دی گئی اور ملک کے تعلیمی مراکز کے علاوہ مختلف قسم کے ذرائع ابلاغ جیسے ٹی وی، ریڈیو، اخبار، مجلات اور حتی سنما، تھیٹر اور دوسرے ثقافتی اور آرٹسٹک شعبوں کو معاشرے میں اسلامی ثقافت کے فروغ کیلئے بروئے کار لایا گیا۔ م

غربی ثقافتی یلغار سے مقابلے کا ایک انتہائی واضح مصداق ایران میں معاشرتی انصاف کے تحقق کی کوششیں تھیں۔ عالمی سطح پر سرگرم ملٹی نیشنل کمپنیز ایران کی دولت اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار میں مصروف تھیں اور ایران کے اندر موجود سستی افرادی قوت اور خام مال کو استعمال کرتے ہوئے بڑی سطح پر سود کما رہی تھیں جبکہ دوسری طرف پورے ملک میں ایرانی عوام غربت، افلاس، تنگدستی اور معاشی مشکلات میں ہاتھ پاوں مار رہے تھے۔ جبکہ ملک کے اندر موجود قلیل تعداد میں بڑے بڑے سرمایہ دار اور سیٹھ حضرات بھی عالمی طاغوتی کا حصہ بننے کے بعد بے حسی کا شکار ہو چکے تھے۔ اس وقت کا ایران سرمایہ دارانہ نظام کا شکار ہو کر رہ گیا تھا۔
اس میدان میں انقلاب اسلامی ایران کا ثمرہ معاشرتی برتری کے معیاروں میں بنیادی تبدیلیوں کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس طرح کہ پہلے جو حیثیت اقتصادی اور معاشی برتری کو حاصل تھی اس کی جگہ انسانی اقدار اور تقوی نے لے لی۔ امام خمینی رحمہ اللہ علیہ نے بارہا اور بارہا معاشرے کے محروم طبقے پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر تاکید کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ اسلامی نظام حکومت کا سب سے بڑا افتخار محروم عوام کی خدمت کرنا ہے۔
انقلاب اسلامی ایران کے ثقافتی ثمرات میں سے ایک اور اہم ثمرہ گھر اور معاشرے میں ایک مسلمان خاتون کے حقیقی مقام کو متعارف کروانا ہے۔ پہلوی دور حکومت میں مغرب کی جانب شدید جھکاو اور مغربی اقدار کو رائج کرنے کی کوششوں کی بدولت ایک مسلمان ایرانی خاتون کا تشخص شدید خطرات سے دچار ہو چکا تھا اور ایرانی معاشرے میں بتدریج برہنگی اور بے حیائی کی ثقافت کو رائج کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے معاشرے میں خواتین کی مفید فعالیت بھی کم سے کمتر ہوتی جا رہی تھی۔

لیکن انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی برکت سے معاشرے میں ایک مسلمان خاتون کا حقیقی مقام متعارف کروایا گیا اور جیسا کہ انقلاب اسلامی کی جدوجہد کے دوران خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ فعالیت انجام دی اسی طرح اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی خواتین نے اہم معاشرتی اور سیاسی شعبوں کو خالی نہیں چھوڑا اور اسلامی حجاب کی مکمل رعایت کرتے ہوئے اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو احسن اور بھرپور انداز میں انجام دیا ہے۔

آج ایران کا کوئی ادارہ چاہے وہ تعلیمی ادارہ ہو یا سیاسی ادارہ، اقتصادی ادارہ ہو یا ثقافتی ادارہ، خواتین سے خالی نہیں اور ایران کی مسلمان انقلابی خواتین اسلامی قواعد و مقررات کے اندر رہتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ سرگرم عمل نظر آتی ہیں۔

2. تعلیم کا عام ہونا اور شرح خواندگی میں تیزی سے اضافہ:
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اگرچہ حکومتی سطح پر ملک میں ناخواندگی سے مقابلہ اور لوگوں کی ثقافتی سطح میں ترقی کے بارے میں بڑھ چڑھ کر دعوے کئے جاتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایرانی عوام کی بڑی تعداد نہ صرف گاوں دیہاتوں میں بلکہ شہروں میں بھی ان پڑھ اور ناخواندہ تھی۔ لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کی حکمفرمایی کے بعد خاص طور پر عالمی استعماری قوتوں کی جانب سے آٹھ سالہ تھونپی گئی جنگ کے بعد ملک میں ناخواندگی کے خاتمے کیلئے ایک بڑی تحریک نے جنم لیا۔ اس تحریک کے دوران بڑی تعداد میں نئے سکول بنائے گئے اور تعلیم بالغاں کا سلسلہ بھی زور و شور سے شروع کر دیا گیا۔

بعض ذرائع کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ہر سال تقریبا ایک لاکھ میٹر مربع تعلیمی مراکز میں اضافہ عمل میں آیا۔ ملک میں شرح خواندگی بڑھانے کی تحریک کے دوران ایسے لاکھوں افراد جو کسی بھی وجہ سے علم جیسی لازوال نعمت سے محروم ہو چکے تھے اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیت سے بے بہرہ تھے علم کے زیور سے آراستہ ہوئے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے ملک بھر میں یونیورسٹی طلبہ کی تعداد تقریبا 16 ہزار تھی جبکہ اس وقت یہ تعداد 10 لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اضافہ عوام کی تعلیمی سطح میں ترقی اور ملک کو درکار متخصص افراد کی فراہمی میں خاطر خواہ اضافے کی واضح علامت ہے۔

اسی تعلیمی ترقی کی بدولت آج ایران مختلف میدانوں میں علم کی چوٹیاں فتح کرنے میں مصروف ہے اور ایرانی محققین نئوکلیئر ٹیکنالوجی، نینوٹیکنولوجی، ایروسپیس ٹیکنولوجی، کلوننگ، جینیٹک انجینئرنگ اور اسٹم سیل ٹینکولوجی جیسے میدانوں میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے رقابت کرتے نظر آتے ہیں۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


6 + شش =