صفحه اصلی » خبریں » سماجی » امریکی آزادی ادیان کا ایک نیا روپ؛ مسلمان خاتون کو ڈینٹل کلینک سے نکال دیا گیا

امریکی آزادی ادیان کا ایک نیا روپ؛ مسلمان خاتون کو ڈینٹل کلینک سے نکال دیا گیا

شائع کیا گیا 07 آگوست 2016میں | کیٹیگری : سماجی
فونٹ سائز

امریکی ریاست ورجینیا میں مسلمان خاتون نجف خان نے ایک ڈینٹل کلینک میں اپنی نئی مالزامیت شروع کی تو وہاں کے مالک نے نجف سے کام کے دوران حجاب اتار دینے کا مطالبہ کیا۔ کلینک کے مالک  کے مطابق نجف کا حجاب مریضوں کے کلینک سے دور رہنے کا سبب بن رہا ہے اور یہ اس کے پیشے کے لحاظ سے کام کے دوران مناسب نہیں۔

مالزامیت کے ابتدائی تین روز تک نجف کا مالک  یہ دھمکی دیتا رہا کہ حجاب نہ اتارنے کی صورت میں اسے نوکری سے برخاست کر دیا جائےگا۔ تاہم نجف نے ان دھمکیوں کا اثر نہ لیتے ہوئے اپنے حجاب کو برقرار رکھا یہاں تک کہ ای میل کے ذریعے اس کو برطرفی کا پروانہ مل گیا۔

نجف خان کا کہنا ہے کہ ” میں ڈینٹل کلینک میں کام شروع کرنے کے حوالے سے بہت پُرعزم تھی کیوں کہ دانتوں کی ایک اچھی ڈاکٹر بننے کے لیے مجھے تربیت کی ضرورت تھی۔ میں اس وقت بھونچکا سی رہ گئی جب مجھے مالک  نے بتایا کہ میں اپنے کام میں بہت اچھی ہوں مگر مالزامیت جاری رکھنے کے لیے مجھے اپنا حجاب اتارنا ہوگا”۔

کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمان خاتون کو ڈینٹل کلینک میں دوبارہ کام پر لایا جائے اور اس ناخوش گوار تجربے کی وجہ سے اسے جس معاشی اور نفسیاتی تکلیف سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کا زر تلافی بھی ادا کیا جائے۔ کونسل نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی امریکی مالزامی کو اس کے عقائد یا دینی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے اہانت کا نشانہ نہ بنایا جائے اس لیے کہ یہ ذاتی حقوق میں سے ہیں اور امریکی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔

مذکورہ واقعہ بیان کرنے والے برطانوی اخبار “انڈیپینڈنٹ” کو “ آکس” ڈینٹیل کلینک کا موقف حاصل نہیں ہوسکا جس کے ڈائریکٹر نے نجف خان کے حجاب کے حوالے سے نسل پرستی کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے اسے مالزامیت سے فارغ کردیا۔

نجف خان کا معاملہ ایک دوسری مسلمان نوجوان خاتون “ سمانتھا ” کے کیس کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے۔ سمانتھا کو بھی اسی نوعیت کے موقف کا نشانہ بننا پڑا تھا۔ امریکی سپریم کورٹ نے جون 2015 میں اپنے ایک عظیم فیصلے میں کہا تھا کہ سمانتھا جس کمپنی میں کام کررہی ہے اس نے مسلمان خاتون کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ چهار = 13