صفحه اصلی » خبریں » ثقافتی » امام رضا علیہ السلام کی منطقی گفتگو کے آداب و اخلاق؛ استاد ڈاکٹر حسن رحیم پور

امام رضا علیہ السلام کی منطقی گفتگو کے آداب و اخلاق؛ استاد ڈاکٹر حسن رحیم پور

شائع کیا گیا 15 آگوست 2016میں | کیٹیگری : ثقافتی
فونٹ سائز

ڈاکٹر حسن رحیم پور ازغدی نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مناظرات کی توضیحی مٹینگ میں کہ جو آستان قدس رضوی کے مرکزی نمائش ہال میں حرم مطہر رضوی میں دینی سوالات کے جواب دینے والے علماء اور مختلف ادیان و مذاہب کے علماء کے حضور منعقد تھی، حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے سوالات کے جوابات کی روش کی معرفت کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام منطقی گفتگو کے ساتھ، ادب کی رعایت اور اہم ترین سوالات کے ذریعہ دنیا کے رہبروں کے ساتھ مناظرہ فرماتے اور ان کے جوابات عنایت فرماتے تھے۔
اس حوزہ و یونیورسٹی کے استاد نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مناظروں کے کچھ واقعات کا تذکرہ کیا اور کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کبھی بھی اپنی برتری کی تلاش میں نہیں رہے، بلکہ ہمیشہ حق کو ثابت کرنے کی فکر میں رہتے؛ لہذا کبھی بھی اپنے مدمقابل کی توہین و بے حرمتی نہیں فرماتے تھے اور اسی وجہ سے بہت سے لوگ دین اسلام کو قبول کرلیتے تھے۔
انہوں نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے عقل پسندانہ کلام اور منطق کی طرف اشارہ کیا اور کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام مختلف ادیان و مذاہب پیروکاروں کے ساتھ اپنے مناظرات میں بہت سے افراد کو راہ حق پر لے آئے اور حق کے سامنے قانع و خاضع بنالیا۔ یہ اخلاقی موثر روش، اسلام دشمن لوگوں کو بھی مسلمان کردیتی تھی۔
انہوں نے مخالفین کے ساتھ دوستانہ اور احترام کے ساتھ ملنے ملانے کو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی خصوصیات میں سے شمار کیا اور کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی روش میں مخالفین کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آنا عظیم ترین سلوک تھا۔ یہی رو ش حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی رہی ہے کہ جو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زندگی میں متجلی تھی اور آپ کی تمام عمر میں ایک عظیم صفت کی طرح رہی۔
رحیم پور ازغدی نے اس مطلب کے بیان کے ساتھ کہ مخالفین اور معاندین کے درمیان فرق رکھنا چاہیے کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام اپنے فکری و اعتقادی مخالفین کے ساتھ جس چیز کو اصل بنائے ہوئے تھے، وہ مباحث و مطالب کی وضاحت اور روابط تھے اور اس روش سے اکثر لوگوں کی ہدایت فرماتے اور مقابل شخص کو قانع کرتے تھے۔
ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے رکن نے حضرت اما م علی رضا علیہ السلام کی بہترین روش، ہمارے لیے عملی، اخلاقی، اعتقادی و فکری نمونہ ہے، کہا: ائمہ معصومین علیہم السلام ہر لحاظ سے قول و فعل میں خواہ اخلاقیات و اجتماعیات میں ہمارے مقتداء، نمونہ اور راہ نجات ہیں۔

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ 5 = نُه