صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » امام خمینی (علیہ الرحمۃ) کی نظر میں یوم القدس کی اہمیت

امام خمینی (علیہ الرحمۃ) کی نظر میں یوم القدس کی اہمیت

فونٹ سائز

1. یوم القدس، مستضعفین کا مستکبرین عالم کے ساتھ مقابلہ کرنے کا دن ہے:

“یوم القدس عالمی ہے اور یہ صرف قدس سے متعلق نہیں ہے. یہ مستضعفین کا مستکبرین کے ساتھ مقابلے کا دن ہے، یہ ان اقوام کے مقابلے کا دن ہے جو امریکہ اور غیر امریکہ کے ظلم تلے دبے ہوئی تھیں، ایسا دن ہے جب مستضعفین کو چاہئے کہ مستکبرین کے خلاف پوری طرح تیار ہو جائیں اور ان کو ذلیل و خوار کریں.”[1]

2. یوم القدس، اسلامی حکومت کا دن ہے:

“یوم القدس صرف فلسطین سے مخصوص نہیں ہے، یہ اسلام کا دن ہے؛ یہ اسلامی حکومت کا دن ہے، ایسا دن ہے جب اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا تمام ممالک میں بلند کیا جانا چاہئے. ایسا دن ہے جب سپر طاقتوں کو سمجھانا چاہئے کہ اب اسلامی ممالک میں آگے نہیں بڑھ سکتے. میں یوم القدس کو اسلام اور رسول اکرم کا دن سمجھتا ہوں، ایسا دن ہے جب ہمیں چاہئے اپنی تمام طاقتوں کو یکجا کریں؛ اور مسلمانوں کو اپنے خول سے نکلنا چاہئے، اور اپنی تمام طاقت و توانائی کے ساتھ اجانب اور بیگانوں کے سامنے کھڑے ہو جائیں.” [2]

3. یوم القدس، اسلام کی حیات کا دن ہے:

“یوم القدس ایسا دن ہے جب تمام سپر طاقتوں کو وارننگ دی جانی چاہئے کہ اب اسلام آپ کے خبیث ہتھکنڈوں کی وجہ سے آپ کے زیر تسلط نہیں آئے گا، یوم القدس، اسلام کی حیات کا دن ہے.”[3]

4. یوم القدس، یوم حزب مستضعفین ہے:

“یوم القدس ایک اسلامی دن ہے، اور یہ ایک عام اسلامی رضاکاروں کا دن ہے. مجھے امید ہے کہ یہ مقدمہ بنے گا ایک “حزب مستضعفین” کے لئے.”[4]

5. امت مسلمہ کا ذمہ داری کا احساس نہ ہونے کے نتیجے میں، قرآنی تعلیمات کو بہت تباہ کن خطرات لاحق ہوں گے:

“اگر امت مسلمہ نہ جاگی اور اپنے وظایف سے واقف نہ ہوئی، اگر علمائے اسلام نے ذمہ داری کا احساس نہ کیا اور اٹھ نہ کھڑے ہوئے، اگر واقعی اور اصیل اسلام جو اجانب کے خلاف تمام مسلمان فرقوں کے درمیان اتحاد و تحرک کا باعث ہے اور مسلمان اقوام اور اسلامی ممالک کی سیادت و استقلال کا ضامن ہے، اگر بیگانوں اور اجانب کے عوامل کے ہاتھوں اور سامراجی سیاہ پردوں کے اندر بھڑکنے لگے تو اسلامی سماجوں کے لئے اس سے بھی زیادہ سیاہ اور برے دنوں کا انتظار کیجئے اور اسلام کی بنیاد اور قرآن کے احکام کو بہت تباہ کن خطرہ لاحق ہے.”[5]

6. مظلوموں کی ہر طرح کی حمایت کرنا، ہمارا فرض ہے:

“تاکید کے ساتھ مناسب ہے کہ بلکہ واجب ہے کہ شرعی وجوہات کا ایک حصہ جیسے زکات اور دوسرے صدقات کافی مقدار میں ان راہ خدا کے مجاہدوں کے لئے مختص کیا جانا چاہئے . . . اور اپنے تمام افراد اور اسباب کے ساتھ ان کی مدد کرنا واجب ہے.” [6]

 

حوالہ جات:

1. صحیفه امام، جلد ۹، صفحهٔ ۲۷۷
2. صحیفه امام، ج۹، ص۲۷۸
3. صحیفه امام، ج۹، ص۲۷۷
4. صحیفه امام، ج۹، ص۲۸
5. صحیفه امام، ج۶، ص۴۸۸
6. صحیفه نور،ج ۲،ص ۱۹۹

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


8 + نُه =