صفحه اصلی » خبریں » آج کا تبصرہ » امام خمینی (رح) کی نقطہ نظر سے خواتین کا کردار

امام خمینی (رح) کی نقطہ نظر سے خواتین کا کردار

شائع کیا گیا 26 مارس 2015میں | کیٹیگری : آج کا تبصرہ, امام (رح) کے افکار و نظریات
فونٹ سائز

بیسویں صدی کے بڑے بڑے سیاسی و معاشرتی کارناموں اور اسلامی انقلاب کے واقعات میں مسلمان خواتین کی پوری قوت و شوکت کے ساتھ شراکت نے اسلامی حلقوں میں عورتوں سے متعلق معاشرتی مباحث کے دائرے میں ایک نیا طرز فکر جنم دیا ہے آج دنیا کی آبادی کا نصف اعظم عورتوں سے تشکیل پایا ہے لہذا ان کی خصوصیات اور توانائیوں کی شناخت و پہچان انسانی حیات میں بڑا ہی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

عورتوں کے سلسلے میں بڑے ہی مختلف و متضاد خیالات ظاہر کئے جاتے رہے ہیں جس کا بنیادی سبب افراط و تفریط سے کام لینا کہا جاسکتا ہے۔ اسلام نے نبی اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کے ابتدائي مراحل سے ہی خواتین کے حقوق کا احیاء اپنی تعلیمات میں سر فہرست قرار دیا۔ خواتین کی تخلیقی اور مزاجی خصوصیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی وجودی اور انسانی حقیقت کو مردوں کے مثل و مساوی قرار دیا اور مرد و عورت دونوں کی سرشت ایک قرار دی۔ اور حضرت امام خمینی رضوان اللّہ علیہ کے لفظوں میں”اسلام نے عورت کو” شیئیت کے درجے سے نکال کر ایک مستقل “شخصیت” عطا کی ہے اور اس کو حقیقی مقام و منزلت سے آشنا بنایا ہے۔

عورت ایک الہی وجود ہے اور اسلام کے انقلابی مکتب میں، وہ مردوں سے زیادہ آزادی و انسانیت کی بشارت دیتی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انسانی تاریخ کے طویل دور میں کفر و شرک کی حکمرانی کے سبب قدیم و جدید ہر دور میں مختلف شکلوں سے اس کو ذلت و حقارت کے ساتھ کنیز و خدمتگار کی زندگي بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔

اس کی صرف ظاہری شکل و صورت پر نظر رکھی گئی اور لوگ عیش و مستی کے کھلونوں کی طرح اس سے کھیلتے رہے خصوصا عصر حاضر میں تو فیشن اور جدت کے نام پر اس سے بدترین شکل میں فائدہ اٹھایا جارہا ہے، ایک عورت کے الہی پہلوؤں کو بالکل نظر انداز کردیا گيا ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ سنہری شمشیر سے عورت کا گلا کاٹنے والے یہی افراد خواتین کے حقوق اور آزادی کے علمبردار بنے ہوئے ہیں اور اپنی حقیقت و عظمت سے ناآشنا خواتین کا ایک گروہ ان کی “شیطانی آیات” میں اپنی رہائي اور نجات کی راہ تلاش کر رہا ہے اور اس بات سے بے خبر ہے کہ یہ لوگ ان کو حیات نہیں موت کے دلدل میں دھکیل دینے کے درپے ہیں۔ جس طرح عرب کے دور جاہلیت کے بعد رسول اسلام صلی اللّہ علیہ و آلہ و سلم کی الہی تعلیمات اور جناب خدیجہ، ام سلمہ، اسماء بنت عمیس، سمیہ اور فضہ کی مانند خواتین اسلام خاص کر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللّہ علیہا کی سیرت اور زندگي آفریں عملی پیغامات نے چودہ سال پہلے خواتین کی زندگی میں ایک انقلاب بر پا کردیا تھا عصر حاضر میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایک بار پھر خواتین عالم کے لئے عصر جدید کی جہالت اور سامراجی قید و اسیری سے رہائی کی راہیں کھلی ہیں اور عورت کا “حقیقی الہی چہرہ” دنیا کے سامنے نمودار ہوا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کے اس “انقلابی چہرے” کی تصویر کشی میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رضوان اللّہ علیہ نے بڑا ہی اہم کردار ادا کیا ہے وہ اپنے حق آخریں پیغامات میں کہا کرتے تھے: “میں جوانوں، لڑکوں اور لڑکیوں سے چاہتا ہوں کہ وہ اپنی آزادی و خود مختاری اور انسانی معیارات کو، چاہے رنج و زحمت ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے، مغرب اور اس کے آوارۂ ملک وقوم آلہ کاروں کے ذریعے کھولے گئے برائیوں کے اڈوں میں جانے اور عیش و عشرت اور تجملات کی زندگی گزارنے پر قربان نہ کریں”۔

جب وہ اپنی بات خواتین اسلام کے قلوب میں راسخ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو دنیا کے سامنے پورے افتخار کے ساتھ اعلان کرتے ہیں۔ “ہماری محترم خواتین نے ثابت کردیا کہ وہ مغرب کی پر فریب سازشوں کا شکار نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ عفت و پاکدامنی کا محکم قلعہ ہیں اور ملک و معاشرے کوصحیح و سالم توانا فرزند اور حیا و عفت کی پیکر بیٹیاں تقدیم کریں گي اور ان راہوں پر ایک قدم بھی آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہیں جو بڑی طاقتوں نے ان کی تباہی و بردباری کے لئے ان کے سامنے کھول رکھی ہیں۔”

ایک پاک و پاکیزہ مثالی معاشرے کی تخلیق میں ماں کی حیثیت سے خواتین کا جو کردار ہے اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ عشق و محبت اور ایثار و قربانی کا اعلیٰ ترین جوہر رکھنے والی ”مائیں “ہی ایسے بچوں کی پرورش و تربیت کرسکتی ہیں جو کمال انسانیت پر فائز ہوسکیں۔ “انسان سازی” سے بہتر اور شرافت مندانہ اور کون سا کام ہو سکتا ہے؟ اور خدا نے یہ عظیم خدمت خواتین کے سپرد کی ہے کہ وہ اعلی ترین انسانی کمالات سے خود کو مزین کریں اور انسان کہلانے کے سزاوار بچے ملک و قوم کے حوالے کریں۔

امام خمینی رضوان اللّہ علیہ نے خواتین کو اس مسئلے کی طرف ان الفاظ میں متوجہ کیا ہے کہ “آپ کی آغوش ایک مدرسہ ہے اور اس میں عظیم جوانوں کی آپ کو پرورش کرنی ہے لہذا آپ کمالات حاصل کیجئے تاکہ آپ کے بچے آپ کی آغوش میں صاحب کمال بن سکیں۔”

دوسری جگہ فرماتے ہیں:”آپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں انہیں اسلامی تربیت دیں، انہیں انسان بنائیں اور مجاہد بنائیں” اور اس کی وجہ بھی بیان کردی ہے کہ: “یہ لوگ اسلام کے فرزند ہیں اور اس کے بعد اسلام اور خود آپ کے ملک کی تقدیر ان کے ہاتھ میں ہوگي۔” یہ جو بات کہی گئی ہے کہ “مائیں ایک ہاتھ سے گہوارہ جنبانی کرتی ہیں اور دوسرے ہاتھ سے دنیا کو حرکت دیتی ہیں۔” تو یہ اسی لئے ہے کہ آئندہ نسلوں کی تربیت کے سلسلے میں ماؤں کا بڑا ہی اہم کردار ہے۔

ماں کی آغوش امام خمینی رضوان اللّہ علیہ کی نظر میں ایک مدرسے اور مکتب سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے ایک مقام پر فرماتے ہیں۔ “ماں کی آغوش سب سے بڑا مدرسہ ہے جس میں بچہ تربیت پاتا ہے وہ جو کچھ ماں سے سنتا اور سیکھتا ہے اس سے مختلف ہے جو وہ اپنے استاد سے سنتا ہے”۔ اس سلسلے میں ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ماں اپنے نونہالوں کی طرف سے عمر کے کسی بھی حصے میں غافل و بے بوجہ نہیں ہوتی اس کی نگاہیں ہر آن اپنے بچوں کاطواف کیا کرتی ہیں وہ ان کو ان کے حال پرچھوڑ دیں اور ان کی طرف سے بے پروا ہوجائیں یہ ان کی مامتا کے خلاف ہے البتہ ضرورت سے زیادہ پیچھے پڑا رہنا بھی، بچوں کو چڑ چڑا اور اپاہج بنا سکتا ہے لہذا دیکھ بھال میں بھی توازن ضروری ہے، جوانوں میں استقلال و خود مختاری کے ساتھ شخصیت سازی کا جذبہ پایا جاتا ہے لیکن وہ نئے تجربات سے گزرتے ہیں اور بعض حالات میں انہیں ایک قابل اعتماد، مشیر اور ہم راز و ہم درد دوست اور سہیلی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ فریضہ ایک باشعور ماں بڑی خوش اسلوبی سے ادا کرسکتی ہے۔

اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ رہبر کبیر امام خمینی (رہ) نے خواتین کو بار بار نصیحت کی ہے کہ آپ اپنے بچوں کی خوب حفاظت کیجئے، خوب تربیت کیجئے، کیونکہ یہ بچے ہی ایک ملک کو نجات عطا کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے۔” اگر آپ ایک دیندار بچہ معاشرہ کے حوالے کریں گی تو ممکن ہے ایک وقت میں آپ دیکھیں کہ یہی دیندار و پابند مذہب بچہ ایک پورے معاشرے کی اصلاح کردیتا ہے۔”

جہاں تک نمونۂ عملی کا سوال ہے تاریخ اسلام و آدمیت میں ماؤں بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں سبھی کیلئے بہترین اسوہ اور نمونۂ عمل رسول اسلام صلی اللّہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللّہ علیہا کا کردار ہے جنہوں نے رسول اسلام صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی کی حیثیت سے اگر “ام ابیہا” کا خطاب پایا اور علی ابن ابی طالب کی بیوی کے طور پر”بہترین کفو” قرار پائیں تو اپنی عصمت مآب آغوش میں نہ صرف امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو پالا ہے بلکہ ایک خاتون کی حیثیت سے جناب زینب سلام اللّہ علیہا اور ام کلثوم سلام اللّہ علیہا جیسی بیٹیاں اسلام اور اسلامی معاشرہ کے حوالے کی ہیں جو نہ صرف آپ کی تعلیم و تربیت کا شاہکار ہیں بلکہ تاریخ اسلام کا وہ بے نظير کردار ہیں کہ جن کی ان کے عہد کے پانچ اماموں نے مختلف زمانوں میں ضرورت محسوس کی ہے اور ان کی عظمت و جلالت کا اعتراف کیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


+ 4 = یازده