صفحه اصلی » انٹرویوز » امام خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت، تکفیریوں کی تشدد پسندانہ تحریک کے لئے ایک عظیم رکاوٹ

امام خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت، تکفیریوں کی تشدد پسندانہ تحریک کے لئے ایک عظیم رکاوٹ

شائع کیا گیا 17 آگوست 2014میں | کیٹیگری : انٹرویوز
فونٹ سائز

عراق کے انصار الولایہ سیاسی  انسٹیٹیوٹ کے  منتظم اعلیٰ: امام خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت، تکفیریوں کی تشدد پسندانہ تحریک کے لئے رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
 
عراق کے انصار الولایہ سیاسی  انسٹیٹیوٹ کے  منتظم اعلیٰ نے کہا: جب تک ایران کا اسلامی معاشرہ کے لئے آیت اللہ خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت جاری و ساری رہے گی تب تک تکفیری دہشتگرد ایران کا کچھ بھی نہیں بیگاڑ سکتے۔
 
 
 
شیخ ہادی جمعہ نے، ابناء روح اللہ انسٹیٹیوٹ کے صحافی سے  اسلامی بیداری اور انقلاب اسلامی کے در میان تعلق کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:امام خمینی رہ  نے اپنے جد امجد حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرح دین کو زندہ کرنے کے لئے قیام کیا۔
 
انہوں نے کہا: شاہنشاہی حکومت کے دور میں، ایرانی عوام  کی عزت  و ناموس، طاغوت کے ظلم و ستم کے نیچے پاش پاش اور  چکنا چور ہو رہی تھی۔ امام خمینی رہ نے اپنے پختہ ارادے ،  ایمانی طاقت اور خدا پر بھروسہ کرنے کے ذریعہ، اس طاغوتی حکومت کی بھیانک کردار کو ریزہ ریزہ کر کے اسلامی معاشرہ کی جان میں نئی روح پھونک دی۔ امام خمینی رہ نے تمام اسلامی ممالک کو یہ درس دیا کہ طاغوتی حکومتوں کے سامنے سر جھکانا نہیں چاہیے، اور طاغوتی ظلم و ستم کے خلاف قیام کرنا چاہیے، اور عالمی مستضعفین، غریب، مظلوم اور محروم طبقہ کے حقوق  کا دفاع کرنا بہت ضروری ہے۔
 
آل سعود  اور آل خلیفہ کی حکومتیں، امریکہ  اور اسرائیل کے پیسوں سے سانس لے رہی ہیں                                                                         
 
جمعہ علی نے کہا: امام خمینی رہ نے اسلامی معاشروں کو بیدار کیااور انہیں عزت دی۔ آج اسلامی بیداری،  تمام اسلامی ممالک میں ترقی اور پیشرفت کے صحیح راستے پر چلی ہوئی ہے۔ البتہ آل سعود اور آل خلیفہ جیسی حکومتیں، امریکا اور اسرائیل کے پیسوں سے سانس لیتے ہوئے  اس بیداری کوپاوں تلے  کچلنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
 
انہوں نے مزید کہا: انقلاب اسلامی  ایران نے، اپنے زمانے کے سب سے بڑے طاغوتی نظام کو لرزہ بر اندام کر کے بہت بڑی شکست دی، آج عالمی  استکبار اور سامراجی طاقتوں کو ڈر ہے کہ کہیں ان کے ممالک میں اسلامی بیداری نہ پھیل جائے، لیکن یہ ضرور ہو کے رہے گا، یہی وجہ ہے کہ ایران کی علمی اور ٹکنالوجی ترقیاتی سسٹم کے مقابلے میں رکاوٹیں بنا رہے ہیں۔
 
 
 
جمعہ علی نے عربی ممالک کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: مغربی جارحیت نے یوں سوچا کہ دہشتگردی اور تکفیری گروہوں کی ایجاد اور حمایت کرنے سے، عالمی اسلامی بیداری کے سلسلہ کو ضعیف کر سکیں گے۔ جب تک  امام خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت موجود ہے، تب تک تکفیریوں کی تشدد پسندانہ تحریک کے خلاف  ایک عظیم رکاوٹ بنی رہے گی۔  
متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


چهار + 9 =