صفحه اصلی » انٹرویوز » اسلامی اتحاد و وحدت، صرف نظریاتی باتوں سے کامیاب نہیں ہو سکتا/فلسطین، عالم اسلام کا قابل وحدت اتفاقی مرکز

اسلامی اتحاد و وحدت، صرف نظریاتی باتوں سے کامیاب نہیں ہو سکتا/فلسطین، عالم اسلام کا قابل وحدت اتفاقی مرکز

شائع کیا گیا 18 ژوئن 2014میں | کیٹیگری : انٹرویوز
فونٹ سائز

فلسطینی اسلامی مزاحمت حماس کا تھران میں نمائندہ نے کہا: اسلامی اتحاد و وحدت، صرف نظریاتی باتوں سے کامیاب نہیں ہو سکتا/فلسطین، عالم اسلام کا قابل وحدت اتفاقی مرکز

فلسطینی اسلامی مزاحمت حماس کا تھران میں نمائندہ نے کہا: اسلامی اتحاد و وحدت، صرف نظریاتی باتوں سے کامیاب نہیں ہو سکتا، اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کے لئے ان کے منافع اور مقاصد کو مد نطر رکھنا پڑے گا۔ قدس شریف، اہم ترین اور اتحاد کا عظیم اور اتفاقی مرکز ہے۔

خالد خدومی نے ابناء روح اللہ انسٹیٹیوٹ کے صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے، ایران کا ایٹمی توانائی کا بجا اور مشروع استعمال کرنے کے بارے میں کہا: تمام ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایٹمی توانائی کا اپنے معقول اصول اور ضوابط کے تحت صحیح استعمال کر سکیں

انہوں نے کہا: ایران، ایٹمی توانائی سے علمی، سائنسی، ٹکنالوجی اور دیگر معقول شعبوں میں استعمال کرتا ہے۔ حالانکہ عالمی سامراجی طاقتوں نے اس توانائی کے ذریعے ایٹمی بم اور دیگر ہتھیار تیار کرتا ہے اور اپنے اسلحہ خانوں میں ضرورت کے وقت کے لئے سجا کر رکھیں ہیں۔

خدومی نے مزید کہا: اگر عالمی عدل قائم کرنا چاہیں تو تمام عالمی ممالک کو یہ حق حاصٖ ہے کہ وہ اپنے معقول اور صحیح اصولوں کے مطابق  اس ٹکنالوجی سے استفادہ کر سکیں۔ لیکن آمریکہ اور اسرائیل ظلم و ستم کے علمبردار ہوتے ہوئے عدل و قسط کے دعویدار ہونے کے باوجود ایران کے راستے پر رکاوٹیں قائم کیے ہوئے ہیں۔

 

فلسطین عالم اسلام کے اتحاد کا اتفاقی مرکز

انہوں نے اتحاد عالم اسلام کے موضوع کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: اتحاد کے موضوع کے متعلق ہر شخص کو اپنی نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ جھان اسلام کے منافع اور مقاصد پر کڑی نظر رکھنا چاہیے۔ فلسطین کا مسئلہ عالم اسلام کے درمیان وحدت کے لئے ایک مرکزی اور اتفاقی پلیٹ فارم ہے۔

فلسطینی اسلامی مزاحمت حماس کا تھران میں نمائندہ نے کہا: اسلامی ممالک کے مسلمانوں کے درمیان یکجہتی اور اتحاد پہلے سے زیادہ ہونا چاہیے۔ دشمن اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ ان کے درمیان تفرقہ اور جدایی ڈال سکے، اسی لیے قدس اور فلسطین کا مسئلہ ایک اسیسا مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمان حکومتیں اس پر اتفاق اور اتحاد کر سکتی ہیں۔

خدومی نے مزید کہا: تمام اسلامی ممالک کو چاہیے کہ اتحاد اسلامی کے لئے جد و جہد کریں، انہیں چاہیے کہ مل بیٹھ کر این بلندو بالا پروگرام اور لائحہ عمل بنائے اور اور اتحاد اور اسلامی بیداری کے لئے ایک واحد راستہ منتخب کیا جائے۔

فلسطین کی عوام ایرانی حکومت اور عوام کے بارے میں مثبت خیالات ہیں۔

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ درست بات کہ فلسطینی عوام کا ایران اسلامی کی حکومت اور عوام کے بارے میں مثبت تصورات نہیں ہیں، کہا: ایران اسلامی نے ہمیشہ اور ہر لمحہ فلسطین کی مظلوم اور بے پناہ عوام کی حمایت اور مدد کی ہے اور یہ کوئی پہلی بار کی بات نہیں عرصہ دراز سے یہ خیالات موجود ہیں۔ فلسطینی عوام کی ایران اسلامی کے بارے میں مثبت خیالات اور تصورات ہیں۔

خدومی نے کہا: فلسطینی اکثریتی عوام کی رائے ایران اسلامی کی عوام کے بارے میں نہایت مثبت ہے، البتہ اگر کوئی اختلاف رائے موجود ہو تو بھی قابل حل ہے۔

 

اتحاد اور وحدت اسلامی کو جامہ عمل پہنانے کے لئے تھیوری مباحث سے گذرنا ضروری ہوگا

انہوں نے اس بات کے بارے میں کہ ہمیں اسلامی اتحاد کو قائم کرنے کے لئے تھیوری مباحث سے گذر کر عملی میدان میں اترنا ہوگا، کہا: قدس، سوریہ، مصر، عراق جیسے اسلامی ممالک جو صہیونیوں کے ہتھکنڈوں اور غیر معیاری طریقوں کے بدولت مختلف مشکلات سے دوچار ہیں، ان سب کی تڑپ و پھڑک یہی ہے کہ ہمیں تھیوری مباحث سے گذر کر عملی میدان میں اترنا ہوگا۔

فلسطینی اسلامی مزاحمت حماس کا تھران میں نمائندہ نے مزید کہا: اگر اسلامی ممالک اپنی مشکلات خود حل نہ کر سکیں تو عالمی سامراجی طاقتیں آکر ان کی مشکلات اور مسائل میں ضرور دخل اندازی کریں گے۔

خدومی نے آخر میں کہا: اسلامی بیداری کا مستقبل مثبت ہے، بہت ساری مشکلات جو آجکل اسلامی بیداری کو گھیرے ہوئی ہیں، طبیعی ہیں اور ان کو حل کرنے کے لئے وقت لگے گا۔

 

متعلقہ مضامین
کمینٹس

جواب دیں

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *


6 + = پانزده